لیپ ٹاپ سکیم میں کی گئی مبینہ کرپشن کے آڈٹ کا اعلان

پنجاب کی سابق حکومت نے شہباز شریف کی سربراہی میں جون 2011 ءسے اپریل 2018ءتک صوبہ بھر میں لائق، ذہین اور پوزیشن ہولڈرز طلبا و طالبات کو اعزاز کے طور پر دینے کے لئے 19 ارب کی لاگت سے 4 لاکھ 25 ہزار لیپ ٹاپ خریدے تھے۔

لاہور(نمائندہ کریئر کاروان) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کا چیئرمین تعینات کردیا گیا ہے ،عثمان ڈار نے عہدہ سنبھالتے ہی سابق دور حکومت میں لیپ ٹاپ اسکیم میں کی گئی مبینہ کرپشن کے آڈٹ کا اعلان بھی کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت میں لیپ ٹاپ مہنگے داموں خرید کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے نئی تعیناتی سے متعلق تعریفی کلمات میں کہا ہے کہ نوجوانوں کی نمائندگی کے لیے عثمان ڈار بہترین انتخاب ہیں اور یوتھ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کے لیے انقلابی اقدامات کیے جائیں گے۔یوتھ پروگرام کے نومنتخب چیئرمین نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے جو اعتماد ظاہر کیا اس پر پورا اتروں گا۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے نوجوانوں کو صحیح معنوں میں با اختیار بنانے کا ٹاسک سونپا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو کامیاب روزگار اور بہترین ٹریننگز مہیا کرنا ترجیح ہوگی اور انہیں حکومتی سرپرستی میں ترقی کے مواقع دیں گے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ مکمل تیاری کے ساتھ نوجوانوں کے لئے زبردست پالیسیز اور اسکیم لانچ کریں گے۔یاد رہے کہ سابق دورحکومت میں یہ عہدہ مریم نواز کے پاس تھا۔
یادرہے کہ اِس سے قبلپنجاب کی سابق حکومت کی19 ارب سے مکمل کی گئی لیپ ٹاپ سکیم کی خریداری میں مبینہ کرپشن، متعلقہ رولز کی خلاف ورزی ، غیر معیاری خصوصیات کی حامل مشینری کی خریداری اور فراہم کرنے والی فرموں کوبے جا مالی فائدہ دینے پر نیب میں تحقیقات آخری مراحل میں پہنچ گئی جس میں شہباز شریف کے خلاف ایک اور تحقیقات و ریفرنس دائر کرنے کا قوی امکان ہے۔ پنجاب کی سابق حکومت نے شہباز شریف کی سربراہی میں جون 2011 ءسے اپریل 2018ءتک صوبہ بھر میں لائق، ذہین اور پوزیشن ہولڈرز طلبا و طالبات کو اعزاز کے طور پر دینے کے لئے 19 ارب کی لاگت سے 4 لاکھ 25 ہزار لیپ ٹاپ خریدے تھے۔ نیب نے لیپ ٹاپ سکیم کی مارچ میں باقاعدہ انکوائری شروع کی تھی۔روزنامہ 92 کی تحقیقات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حکم پر میٹرک سے لے کر ڈاکٹریٹ ڈگری تک کے لائق، ذہین اور پوزیشن لینے والے طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے جون 2011ءمیں لیپ ٹاپ دینے کا منصوبہ شروع کیا۔ پنجاب کی سابق حکومت نے ابتدائی طور پر ایک لاکھ طلبا میں ٹیبلٹ تقسیم کرنے کے لئے 2ارب کے فنڈز مختص کئے لیکن بعد میں وزیراعلیٰ پنجاب کی خواہش پر ٹیبلٹ کی بجائے لیپ ٹاپ دینے کا حتمی فیصلہ کیا گیا تھا اور فنڈز بھی دو ارب سے بڑھا کر 4 ارب کردیئے گئے۔
 پنجاب حکومت نے ایک لاکھ لیپ ٹاپ کی خریداری کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی لیب پراجیکٹ بنایا اور میڈیا میں خریداری کا اشتہار دیا گیا جس کے نتیجہ میں مختلف کمپنیوں کی طرف سے پیشکش آئیں اور ان باکس ( In Box) کو 4 ارب کی پیشکش پر لیپ ٹاپ کی فراہمی کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ اس طرح پنجاب حکومت نے 39 ہزار کے حساب سے لیپ ٹاپ خریدے گئے۔ ایک لاکھ لیپ ٹاپ کی تقسیم کے بعد ایک لاکھ مزید لیپ ٹاپ 39 ہزار فی لیپ ٹاپ قیمت پر نیو ہوریزن(New Horizan )کمپنی سے 4 ارب کی لاگت سے خریدے گئے۔
 تیسری سکیم میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ64 ہزار فی لیپ ٹاپ قیمت پر خریدے گئے تھے اور چوتھی سکیم میں ایک لاکھ 15 ہزار لیپ ٹاپ 7 ارب میں میگا پلس( Mega Plus ) کمپنی سے خریدا گیا تھا۔ پہلی اور دوسری سکیم کیلئے لیپ ٹاپ انفارمیشن ٹیکنالوجی لیب پراجیکٹ نے خریدے جبکہ تیسری اور چوتھی خریداری محکمہ ایجوکیشن نے کی تھی۔اخبارکے مطابق گزشتہ صوبائی حکومت نے اپنی مدت پوری ہونے سے قبل کل خریدے گئے لیپ ٹاپ میں سے 4 لاکھ 10 ہزار لیپ ٹاپ طلباءو طالبات میں حکومتی امور میں سادگی پالیسی کے باوجود پرتکلف تقریبات کا اہتمام کرکے سابق وزیر اعلیٰ، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز، سابق وزیر اعظم نواز شریف، صاحبزادی مریم نواز اور صوبائی وزراءکے ہاتھوں تقسیم کرائے جبکہ باقی تقریبا 15 ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کے لئے باقی ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ صوبے میں لیپ ٹاپ سکیم کا اجراءبغیر ہوم ورک عجلت میں کیا گیا تھا کیونکہ عمران خان کی بڑھتی ہوئی شہرت کی وجہ سے سابق پنجاب حکومت خائف تھی۔
 نیب میں پہلی سکیم کی تحقیقات آخری مراحل میں ہیں جس میں آئی ٹی لیب میں تعینات رہنے والے بیورکریٹ جودت ایاز اور پراجیکٹ ڈائریکٹر سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید اسلم اور سابق سیکرٹری تعلیم محمد اسلم کمبوہ کو تحقیقات میں شامل کیا ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق پہلی سکیم کی خریداری میں ثابت ہورہا ہے کہ اس میں زائد قیمت پر غیر معیاری اور کمتر خصوصیات کے حامل لیپ ٹاپ خرید کر فرم کو بھاری مالی فائدہ دیا گیا ، کیونکہ اس فرم سے خریداری کی حتمی منظوری سابق وزیراعلیٰ نے دی تھی اور ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اوراب انکوائری آخری مراحل میں ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ لیپ ٹاپ سکیم میں مبینہ کرپشن پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف تحقیقات شروع کرکے ریفرنس دائر ہوسکتا ہے۔