میں مائیک ٹائی سن تو نہیں بن رہا

مائیک ٹائی سن تازہ ترین مثال ہے
 یہ زندگی کے پہلے حصے میں عروج پر پہنچا‘ دوسرے حصے کے آخر میں دیوالیہ ہوا اور یہ اب تیسرے اور چوتھے حصے میں عبرت ناک زندگی گزارے گا‘ یہ فٹ پاتھوں پر ایڑھیاں رگڑے گا‘ شراب اور کوکین کے نشے میںپارکوں میں راتیں گزارے گا اور چوری اور دنگوں کے الزام میں بار بار جیل جائے گا‘ یہ ہو گا مستقبل کا مائیک ٹائی سن! لیکن ٹھہریئے میں پہلے آپ کو مائیک ٹائی سن اور اس کی وہ غلطیاں بتاتا چلوں جن کی بدولت یہ اس انجام تک پہنچا۔
 
مائیک ٹائی سن کی کہانی فلمی ہے‘ یہ نیویارک کے علاقے بروک لین میں پیدا ہوا‘ باپ پرسل ٹائی سن بگڑا ہوا بے حس انسان
 
 
یہ نیویارک کے علاقے بروک لین میں پیدا ہوا‘ باپ پرسل ٹائی سن بگڑا ہوا بے حس انسان تھا‘ وہ مائیک ٹائی سن‘ اس کے بھائی اور اس کی بہن کو چھوڑ کر چلا گیا‘ ماں کرک پیٹرک کو گھر لے آئی‘ یہ باپ بن کر گھر رہتا رہا‘ یہ بھی نکھٹو تھا‘ ماں کو بچوں کے ساتھ ساتھ اسے بھی پالنا پڑ گیا‘ نیا باپ بھی پرانے باپ کی طرح گھر سے بھاگ گیا‘ مائیک کا بچپن غربت ‘لڑائی جھگڑوں ‘چوری چکاری‘چھینا جھپٹی ‘دنگا فساد اور منشیات فروشی میں گزرا‘ وہ تیرہ سال کی عمر تک 38بار پکڑا گیا‘تھانے اور جیل گیا‘ وہ سولہ سال کا تھا ‘ماں کا انتقال ہو گیا‘ دنیا میں اب بس اس کا بھائی تھا‘ بہن تھی اور ان دونوں کی ذمہ داریاں تھیں‘ وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے جیل جاتا رہا‘ باہر آتا رہا‘ مائیک
tyson0
 
ٹائی سن کو آنے جانے کے اس عمل کے دوران بوبی سلیوٹ (Boby Slewat) مل گیا‘ بوبی جیل کونسلر تھا ‘ وہ قیدی بچوں کی نفسیات پر کام کرتا تھا‘ بوبی نے مائیک ٹائی سن کا ٹیلنٹ بھانپ لیا‘ وہ اسے قید خانے سے سیدھا رنگ میں لے گیا‘ مائیک ٹائی سن نے باکسنگ کے گلوز پہنے اور پھرپیچھے مڑ کر نہ دیکھا‘ یہ قدرتی باکسر تھا‘ قدرت نے اس کے مکے میں چٹانی طاقت رکھی تھی‘ دنیا میں باکسنگ کے تین بڑے ٹائٹل ہیں‘ ورلڈ باکسنگ کونسل (WBC)‘ ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن (W.B.A)اور انٹرنیشنل باکسنگ فیڈریشن (I.B.F)‘مائیک ٹائی سن دنیا کا واحد باکسر تھا جس نے یہ تینوں ٹائٹل 20سال 4ماہ اور22دن کی عمر میں حاصل کر لئے۔ یہ ورلڈ ریکارڈ تھا اور یہ آج تک قائم ہے۔ مائیک ٹائی سن باکسنگ کے 58مقابلوں میں شریک ہوا‘ اس نے 50مقابلے جیتے ‘وہ صرف 6مقابلے ہارا‘ دو مقابلے کالعدم ہوئے اور اس نے 44مقابلوں میں حریف کو ناک آﺅٹ کیا‘ ٹائی سن اتنا شاندار باکسر تھا کہ اس نے شروع کے19 مقابلے ناک آﺅٹ سے جیتے ‘مائیک نے ان19میں سے 12مقابلوں میں مخالف کو پہلے راﺅنڈ میں ناک آﺅٹ کر دیا۔ اس نے 1988ءمیں 22سال کی عمر میں مائیکل سپنکس کو دو سیکنڈ میں ناک آﺅٹ کر کے لائیسنل چیمپئن کا اعزازحاصل کر لیا اور اس نے 9بار ورلڈ ہیوی ویٹ ٹائٹل کا دفاع بھی کیا۔
 
مائیک ٹائی سن حیران کن کھلاڑی تھا‘ قدرت نے اسے ہر لحاظ سے نواز رکھا تھا‘ شہرت ‘عزت اور دولت اس پر چاروں طرف سے برس رہی تھی لیکن پھر وہ ہوا جو عموماً دولت ‘ عزت اور شہرت پانے والوں کے ساتھ ہوتا ہے‘مائیک ٹائی سن نے دولت‘ عزت اور شہرت کو ٹھڈے مارنا شروع کر دیئے یہاں تک کہ وہ اس انجام تک پہنچ گیا‘ ٹائی سن پر پہلا الزام 19جولائی 1991ءکو لگا ‘ ٹائی سن نے انڈیانا میں نشے میں دھت ہو کر 18سال کی ایک لڑکی ڈسیری واشنگٹن کی عزت لوٹ لی ‘مائیک ٹائی سن گرفتار ہوا‘
 
مقدمہ چلا اور ٹائی سن کو چھ سال سزا ہو گئی ‘وہ 26مارچ 1995ءکو رہا ہوا‘ دوبارہ باکسنگ کی فیلڈ میں آیا اور کامیابی کے جھنڈے گاڑ نے لگا لیکن کامیابی کے یہ جھنڈے عارضی ثابت ہوئے‘ شہرت اس دوران اسے منشیات کے میدان میں لے جا چکی تھی‘ وہ شراب‘ کوکین اور چرس کاعادی ہو گیا‘ اللہ نے اسے دولت سے بھی نواز رکھا تھا ‘ مائیک ٹائی سن نے 20سال کے کئیریئر میں400ملین ڈالر کمائے‘ اس نے 2000ءمیں ایک سال میں66ملین ڈالر کمائے‘ یہ رقم پاکستان روپوں میں پونے سات ارب بنتی ہے لیکن ٹائی سن عزت کی طرح دولت کو بھی نہ سنبھال سکا‘ وہ دونوں ہاتھوں سے دولت لٹانے لگا‘
 
ساﺅتھنگٹن میں محل بنا لیا‘ ذاتی ملازمین کی تعداد 200تک پہنچ گئی‘ یہ لوگ باڈی گارڈ‘ شوفر‘ شیف اور مالی تھے‘ مائیک نے 45لاکھ ڈالر کی گاڑیاں اور موٹر سائیکل خریدلئے‘34لاکھ ڈالر کے کپڑے اور زیور خریدے ‘78لاکھ ڈالر ہوٹلوں‘ریستورانوں‘ شرب خانوں اور جواءخانوں میں اڑا دیے‘ بیوی کو 20لاکھ ڈالر کا باتھ ٹب لگوا دیا‘ 10لاکھ ڈالر سالگرہ پارٹی پر خرچ کر دیے‘موبائل فون کا بل 2لاکھ31ہزار ڈالر بن گیااور ڈیڑھ لاکھ ڈالر کے دو بنگالی چیتے خریدے اور چیتوں کے ٹرینرز کو ایک لاکھ 25ہزار ڈالر دیے‘ فضول خرچی نے رنگ دکھایا اور وہ 2004ءمیں 39برس کی عمر میں 38ملین ڈالر کا مقروض ہو گیا‘ وہ دیوالیہ ہو گیا‘ وہ دولت سے فارغ ہوا تو وہ شہرت کو ٹھڈے مارنے لگا۔ وہ2006ءمیں کوکین کے جرم میںگرفتار ہوا‘ 24 گھنٹے جیل میں رہا‘ 2009ءمیں لاس اینجلس ائیر پورٹ پر فوٹو گرافرز سے لڑ پڑا‘ میڈیا سکینڈل بن گیا‘ شادیاں کیں‘ ناکام ہوئیں‘گرل فرینڈز بنائیں۔
 
‘ وہ لوٹ کر چلی گئیں‘ دوست ناراض ہو گئے‘ رشتے دار روتے روتے زندگی سے نکل گئے‘ یہاں تک کہ مائیک ٹائی سن آج کے حالات تک پہنچ گیا‘ یہ آج کل دنیا میں عبرت کا نشان بن کر پھر رہا ہے‘ یہ بے گھر ہے‘ یہ کبھی اس فٹ پاتھ پر گرتا ہے اور کبھی اس سڑک پر جا لیٹتا ہے‘ لوگ آج اسے ادھار تک دینے کےلئے تیار نہیں ہیں‘ یہ مانگ کر کھانا کھاتا ہے‘ نشے کا عادی ہے‘ نشے کےلئے ہاتھ تک پھیلا لیتا ہے‘ یہ کیمروں سے چھپتا رہتا ہے اور اگر کوئی ٹیلی ویژن چینل اسے تلاش کر لے تو یہ ناظرین کو اپنی عروج و زوال کی کہانی سنانے لگتا ہے‘ وہ مائیک ٹائی سن جو دس سال پہلے تک دنیا کا ہیرو تھا‘ لوگ جس سے ہاتھ ملانا‘ جس کے ساتھ تصویر کھینچوانا اعزاز سمجھتے تھے‘ وہ ٹائی سن آج دنیا بھر کی بے چارگی کا ہدف ہے‘ لوگ ٹائی سن کو دیکھتے ہیں‘ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اور آگے چل پڑتے ہیں‘ ٹائی سن کی عمر اس وقت 49 سال ہے‘ یہ نو سال سے زوال کا شکار ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے چار موسم بنائے ہیں‘ بہار‘ گرمی‘ خزاں اور سردی۔ بہار میں کائنات کھل اٹھتی ہے‘ نئی کو نپلیں پھوٹتی ہیں‘ پھول نکلتے ہیں اور پھل لگتے ہیں‘ گرمی آتی ہے تو فصلیں پکتی ہیں‘ پھلوں میں رس پڑتا ہے‘ فصلیں کٹنے کےلئے تیار ہوتی ہیںاور درختوں کے پتے ہوا اور سایہ دیتے ہیں‘ خزاں کے موسم میں ہر چیز مرجھا جاتی ہے‘ گھاس سوکھ جاتی ہے‘ پتے گر جاتے ہیں‘ شاخیں جھک جاتی ہیں‘ پھول غائب ہو جاتے ہیں‘ پانی کم ہو جاتا ہے اور چوتھا موسم سردی کا ہوتا ہے‘ سردی کے موسم میں پالے پڑتے ہیں‘ کہرازمین کو ڈھانپ لیتا ہے اور برفیں زندگی کو منجمد کر دیتی ہیں‘ ہم انسان ہزاروں سال سے بہار اور گرمی میں کاشت کرتے‘ گرمی اور خزاں میں کاٹتے اور جمع کرتے اور سردی کے موسم میں گھر بیٹھ کر کھاتے اور آرام کرتے آ رہے ہیں‘ یہ لاکھوں‘ کروڑوں اور اربوں سال سے زندگی کا وطیرہ ہے‘ ہماری سماجی زندگی بھی ان چار موسموں میں تقسیم ہے‘ ہماری زندگی میں بہار آتی ہے یعنی ہم پیدا ہوتے ہیں‘ پرورش پاتے ہیں اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں‘ ہماری زندگی میں پھر گرمی کا موسم آتا ہے‘ ہم کاشت ہوتے ہیں‘ ہم پکتے ہیں‘ ہم پھل بنتے ہیں‘ ہم میں رس پڑتا ہے‘ ہم میں حدت‘ گرمی اور چمک پیدا ہوتی ہے‘ پھر ہماری زندگی میں خزاں آ جاتی ہے‘ ہمارے جسم کی توانائی‘ ہمارے بدن کی خوبصورتی اور ہمارے جسم کے کارآمد اعضاءایک ایک کر کے جھڑنے لگتے ہیں‘ سر بالوں سے ننگا ہونے لگتا ہے‘ جبڑے سے دانت اکھڑنے لگتے ہیں‘ یادداشت کی چولیں نکل جاتی ہیں‘ گھٹنوں‘ پیروں‘ پنجوں‘ انگلیوں‘ کندھوں اور کولہوں میں درد شروع ہو جاتا ہے‘ کمر کی ہڈی بوجھ نہیں اٹھاتی‘ گردن ہلنے لگتی ہے‘ معدے کی کارکردگی 20 فیصد رہ جاتی ہے‘ دل کمزور ہو جاتا ہے‘ مثانے کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگتی ہے‘ جگر اور گردے اجنبی ہونے لگتے ہیں اور ہماری بینائی اور قوت سماعت یہ دونوں بھی دھوکہ دینے لگتی ہیں اور پھر آخری موسم آجاتا ہے‘ ہمارے اردگرد موجود زندگی منجمد ہو جاتی ہے‘ ہمارے تعلقات‘ ہمارے رشتے‘ ہمارے پیشے‘ ہماری فلاسفی‘ ہماری پسند نا پسنداور ہمارے تمام اعزازات منجمد ہو جاتے ہیں‘ یہ ہماری زندگی کا آخری موسم ہو تا ہے‘ یہ موسم جب ٹوٹتا ہے اور ہماری کھڑکیوں پر چڑیاں بولتی ہیں اور ہمارے لان میں کونپلیں پھوٹتی ہیں تو ہم وہاں نہیں ہوتے‘ نئی بہار اپنے ساتھ نئے لوگ لے کر طلوع ہوتی ہے‘ ہم قبر بن جاتے ہیں اور ہماری قبر کے گرد زندگی کا نیا سائیکل شروع ہو جاتا ہے اور پھر یہ قبریں بھی کتنی دیر قائم رہتی ہیں؟ صرف دو نسلوں تک !دنیا میں صرف نصف فیصد لوگ اپنے پر دادا کی قبر جانتے ہیں‘ باقی ننانوے اعشاریہ 50 فیصد لوگ باپ اور دادا کے بعد اپنے تمام بزرگوں کے نام اور قبریں بھول جاتے ہیں‘ قبریں مردے کھاتی ہیں‘ زمینیں قبروں کو کھا جاتی ہیں اور زمینوں کو ہاﺅسنگ سوسائٹیاں‘ سیلاب اور نئی سڑکیں نگل جاتی ہیں اور بس یہ ہے زندگی‘ یہ ہے لائف !ہمیں جان لینا چاہیے۔ ہماری زندگی کے دو موسم بہت سخت ہوتے ہیں‘ خزاں اور سردی کا موسم۔ یہ موسم ہر کامیاب شخص کیلئے اذیت ناک ہوتے ہیں‘ یہ دونوں موسم شہریت‘ عزت‘ ناموری اور دولت کے پتے جھاڑ دیتے ہیں اور انسان بے بس اور اکیلا رہ جاتا ہے‘ سوال یہ ہے ہم ان دو موسموں کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں‘ ہم ان دو موسموں کا مقابلہ اپنی جمع پونجی سے کر سکتے ہیں‘ ہمیں اللہ تعالیٰ بہار اور گرمی میں جو عنایت کرتا ہے‘ ہمیں اس کا 25 فیصد محفوظ رکھنا چاہیے‘ آپ ہر صورت اپنی شہرت‘ اپنی عزت‘ اپنی دولت ‘ اپنے تعلقات ‘ اپنے رشتوں‘ اپنی صحت اور اپنی نیک نامی کا 25 فیصد حصہ بچا کر رکھیں‘ آپ اس 25 فیصد کی سرمایہ کاری بھی کریں‘ آپ اپنی شہرت‘ عزت اور نیک نامی کا 25 فیصد حصہ ویلفیئر کے ایسے منصوبوں میں لگائیں جو کم از کم 50 سال چلتے رہیں‘ یہ منصوبے بڑھاپے میں بھی آپ کو نیک نام‘ با عزت اور مشہور رکھیں گے‘ آپ اپنے 25 فیصد تعلقات اور رشتوں کو آخری سانس تک نبھانے کا فیصلہ کر لیں‘ یہ 25 فیصد تعلقات اور رشتے آپ کو آخر تک اکیلا نہیں ہونے دیں گے آپ بہار اور گرمی کے موسم میں ایکسرسائز کی عادت ڈالیں‘ یہ عادت آپ کو بڑھاپے میں بستر پر نہیں گرنے دے گی اور آپ اپنی کمائی کا 25 فیصد حصہ بھی بچا کر رکھیں‘ یہ 25 فیصد آپ کو آخری عمر میں محتاجی سے بچائے گا۔ یہ وہ فارمولا تھا جس سے مائیک ٹائی سن واقف نہیں تھا چنانچہ دنیا کے کامیاب ترین اور مقبول ترین باکسر نے اپنی ساری موم بیتاں 40 سال کی عمر تک جلا دیں اور یہ آج عبرت کا نشان بن کر امریکا میں ذلیل ہو رہا ہے‘ آپ انٹرنیٹ سے مائیک ٹائی سن کی تازہ ترین ویڈیو ڈاﺅن لوڈ کریں‘یہ ویڈیو اپنے موبائل میں سیو کریں اور یہ روز دیکھیں اور اپنے آپ سے روز یہ سوال کریں” میں مائیک ٹائی سن تو نہیں بن رہا“۔مجھے یقین ہے یہ سوال آپ کو ٹائی سن بننے سے بچائے گا۔