اساتذہ کو ہتھکڑی کیوں لگائی؟اندرونی کہانی سامنے آ گئی

لاہور(نمائندہ کریئر کاروان)گزشتہ روز پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور دیگر پروفیسرز کو عدالت پیشی کے موقع پر ہتھکڑیاں لگاکر پیش کیا گیا جس کا چیف جسٹس پاکستان نے نوٹس لے لیااورمتعلقہ حکام کو عدالت طلب کر لیا جبکہ چیئرمین نیب نے نوٹس لیتے ہوئے تین دن میں رپورٹ طلب کر لی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اساتذہ کوپیش کرنے کی ذمہ داری پنجاب پولیس کی تھی،نیب کاکوئی افسر اس اندازمیں ملزمان کوعدالت پیش کرنے کامجازنہیں،نیب پراسیکیوٹرملزمان کیخلاف صرف شواہدپیش کرتے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق سیکیورٹی کی وجہ سے ملزمان کوہتھکڑی لگاکر پیش کیاجاتاہے،اساتذہ کی پیشی کے وقت نیب کاکوئی اہلکارساتھ نہیں تھا۔
نیب نے مجاہد کامران سمیت یونیورسٹی کے 6 رجسٹراروں کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا اور نیب کے پراسکیوٹر نے عدالت سے 14 روزہ جسمانی کی ریمانڈ استدعا کی۔ احتساب عدالت میں اس موقعہ پر پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور وکلاءکی کثیر تعداد موجود تھی۔ ملزمان کے وکیل نے عدالت کے روبرو ملزمان کو لگائی جانیوالی ہتھکڑیوں پر نکتہ اعتراض اٹھایا اور عدالت سے ہتھکڑیاں کھولنے کی استدعا کی۔
 
ملزمان کے وکلاءکا کہنا تھا کہ نیب مجاہد کامران سے کیا برآمد کرنا چاہتا ہے،جو اِن کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگ رہا ہے جبکہ مجاہد کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اس لیے انہیں کوئی فکر نہیں۔ تاہم عدالت نے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کے ہمراہ گرفتار کئے گئے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کے ہمراہ گرفتار کئے گئے 6 رجسٹرارز میں ڈاکٹر لیاقت، امین ظہیر، مسعود رائس، جہانذیب اور جہانزیب عالمگیر شامل ہیں۔
ڈاکٹرمجاہدکامران پرالزام
ذرائع کے مطابق ڈاکٹرمجاہد کامران پر بے ضابطگیوں کا الزام ہے، انہوں اپنے 9 سالہ دور میں بڑے پیمانے پر یونیورسٹی میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کیں اور 550 سے زائد افراد کو بھرتی کیا، جب کہ اپنی اہلیہ شازیہ قریشی کو غیرقانونی طور پر یونیورسٹی لاءکالج کی پرنسپل تعینات کیا، اس کے علاوہ ڈاکٹرمجاہد کامران نے پپرا رولز کے خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند کنٹریکٹر کو ٹھیکے دیے۔