محکمہ تعلیم کو خفت کا سامنا

کراچی(نمائندہ کریئر کاروان) محکمہ تعلیم کے ذیلی ادارے ریفارم سپورٹ یونٹ کی غلطی نے نارتھ کراچی کے ایک سرکاری اسکول کے معاملے پر محکمہ تعلیم کو خفت کا سامنا ہے۔ کراچی کے ضلع وسطی کے علاقے سرسید ٹائون نارتھ کراچی میں واقع تعلیمی ادارے کے مرکزی دروازے پر نصب بورڈ پر گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول کے ساتھ صرف طالبات کے لئے تحریرہے، جو بھی یہاں سے گزرتا ہے،وہ بورڈ کی اس مضحکہ خیز تحریر کو پڑھ کر ہنستا اور محکمہ تعلیم کی قابلیت کا مذاق اڑاتاہوا گزر جاتا ہے۔ اس مضحکہ خیز صورتحال پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر سیکنڈری وسطی ارشد بیگ کا کہنا ہے کہ 1986 میں اس اسکول کو صرف طالبات کے لئے کردیا گیا تھا تاہم اس کا مکمل نام برقرا ر رہا جس کی وجہ سے بوائز بھی ساتھ لگا رہا، اور بورڈ میں تبدیلی ہوسکی نہ کسی کو اس بات کاپتہ چلا،اس وقت اسکول میں 410 طالبات زیر تعلیم ہیں لیکن چند ماہ قبل ریفارم سپورٹ یونٹ نے سیمز کوڈ کے معاملے پر اپنی آسانی کے لئے اسکول کے بورڈ پر گورنمنٹ بوائز اسکول کے نیچے صرف طالبات کے لئے بھی درج کرادیا جس کی وجہ سے یہ صورتحال ہوئی اور مذاق بنا تاہم سیکرٹری تعلیم نے اتوار کو ہدایت کردی ہے کہ اسکول کے نام کی تبدیلی کی درخواست بھیجی جائے اور منظوری کے بعد اسکول کے نام سے بوائز مٹا کر گرلز لکھ دیا جائے چنانچہ اب ہم پیر کو درخواست بھیج رہے ہیں ساتھ ہی پہلے مر حلے پر صرف طالبات کے لیے مٹا رہے ہیں۔