صوبائی وزیر تعلیم کا اہم اعلان

قائداعظم اکیڈمی فارایجوکیشنل ڈویلپمنٹ میں وزیر تعلیم نے بچوں کے والدین سے پرائیوٹ سکولز سے متعلق شکایات سنی اس موقع پرسیکرٹری سکولزعمران سکندر بلوچ بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر تعلیم نے نجی سکولوں کے متعلق مسائل سن کر فوری ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا اعلان کردیا۔ مراد راس کا کہنا ہے کہ بچوں کو پرائیوٹ سکولوں میں بھاری فیس دے کر پڑھانے کا مطلب ڈیپارٹمنٹ کی ناکامی ہے۔
والدین کا کہنا تھا کہ نجی سکولزمن مانی فیس وصول کرتے ہیں، ادا نہ کریں تو بچوں کو نظر بند یا نام خارج کردیا جاتا ہے۔مراد راس نے بتایا کہ پہلی گورنمنٹ کا بنایا ہوا شکایت سیل صرف ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کیلئے تھا، والدین کیلئے نہیں، ہماری حکومت جدید شکایات سیل قائم کرے گی۔ مراد راس نے کہا کہ غیر معیاری تعلیم کی وجہ سے والدین بچوں کو پرائیوٹ سکول میں پڑھانے پرمجبورہیں ان سکولوں کی مانیٹرنگ اورمکمل آڈٹ کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا میرے بچے بھی پرائیوٹ سکول میں پڑھ رہے ہیں، 45 ہزار فیس میں وہاں کوئی راکٹ سائنس نہیں پڑھائی جارہی۔پاک ایوان تعلیم کے سرپرست اعلیٰ قاضی نعیم انجم کا کہنا ہے کہ صرف 10 فیصد سکول عوام کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں جب کہ 90 فیصد سکول معیاری تعلیم فراہم کررہے ہی، ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے پرائیوٹ سکول مالکان کے تحفظات بھی دور کیے جاسکیں گے۔کریئر کاروان کے مطابق حکومت کی جانب معیاری تعلیم کی فراہمی کے دعوے اپنی جگہ،مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر سرکاری سکولوں کا معیار بہتر کرے تاکہ اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری افسران اپنے بچوں کوسرکاری سکولوں میں پڑھانے کو ترجیح دیں۔