مطالعہ سیرت کی اہمیت و ضرورت - معاذ عتیق راز

خاتم النبیین ﷺ سے پہلے بھی ہر زمانے میں اور ہر ملک میں اللہ کے پیغمبر اور فرستادے آئے، تاکہ وہ اپنی اپنی قوموں کے سامنے اپنی زندگی نمونے کے طور پر پیش کریں، ان کی پوری قوم اور نیک افراد فلاح اور کامیابی حاصل کریں۔ لیکن وہ سب کسی خاص قوم اور خاص علاقے کے لیے مبعوث کیے گئے۔ آخر میں نبی ﷺ کو رحمت عالم بنا کر بھیجا گیا تاکہ وہ تمام عالم کے لیے دنیا میں اپنی زندگی کا نمونہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ جائیں۔
جب نبی کریم ﷺ کو اس مقام و مرتبے پر فائز کیا گیا تو اس میں ہمارے لیے مزید رغبت اور سبق ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سیرت سے سیکھیں، اور اس کو اپنائیں کیونکہ اللہ تعالی کی طرف سے انھیں یہ مقام عطا کیا گیا۔
آج کے دور میں امت مسلمہ کو لاتعداد چیلنجز کا سامنا ہے۔ کفار چوری، سفاکی، چالاکی و بےباکی کے ساتھ اسلام کو مٹانے میں مصروف ہیں۔ ان کی سب سے بڑی حسرت یہ ہے کہ وہ ہماری نوجوان نسل کو دنیا کی زیب و زینت' مادی زندگی کا عیش و تنعم، بلا مواخذہ جسمانی لذتوں کے مواقع فراہم کر کےروحانی لذتوں سے بے بہرہ کردے۔ اور آپ ﷺ کے ارشادات وتعلیمات کی اصل روح کو مسخ کر کے مسلمانوں کے دلوں سے نبی اکرم ﷺ کی محبت کا نقش مٹا دیں۔
اس شیطانی حربے کا علاج یہ ہے کہ اطاعت و محبت کے اس رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر کر کے ہر دل میں حق کی روشنی کی محبت بڑھائی جائے۔ آپ کی سیرت کو زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے، اس پر توجہ دی جائے، اس کو شامل نصاب کیا جائے، اسے اپنی زندگیوں میں لایا جائے تاکہ ہمارا ایمان بھی مکمل ہو سکے۔
اب آتے ہیں مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت کی طرف۔ اس کے نکات حسب ذیل ہیں۔
1 ... سیرت کے مطالعے سے جہاں آپ ﷺ کی شخصیت کی پہچان حاصل ہوتی ہ،' وہاں آپ کے اقوال و افعال سے بھی واقفیت حاصل ہوتی ہے۔
2 ... سیرت کا مطالعہ مسلمانوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے، اور اسے پختہ کر کے دل میں جاگزیں رکھتا ہے۔
3 ... مطالعہِ سیرت خُلقِ عظیم کے اس خزانے تک پہنچنے میں مدد گار ہوگا جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ انسانوں میں ممتاز ہیں۔ اس طرح آپ کے اوصاف حمیدہ کی معرفت بھی حاصل ہوگی۔
4 ... مطالعہ سیرت سے ہمیں صحابہ کرام کی زندگیوں سے واقفیت بھی حاصل ہوتی ہے اور یہ مطالعہ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے محبت کرنے، ان کے طرز زندگی اپنانے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے پر آمادہ کرتا ہے۔
5 ... رسول اللہ ﷺ کی پیدائش سے رحلت تک، تمام مراحل سیرتِ نبوی کی بدولت ہمارے سامنے آتے ہیں، اور یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آپ داعی بھی تھےاور مربی بھی، قاضی بھی تھے اور زاہد بھی، سیاستدان بھی تھے اور حکمران بھی، سپاہی بھی تھے اور راہنما بھی، باپ بھی تھے اور شوہر بھی۔
6 ... اگر آپ داعی ہیں تو آپ کو سیرت نبوی کے مطالعے سے دعوت کے کئی اسلوب ملیں گے۔ جو اسلام کی دعوت میں مفید ثابت ہوں گے، اور معلوم ہوگا کہ کلمہ توحید کی سربلندی کی خاطر تکالیف اور آزمائش کے موقع پر ایک داعی کا صحیح کردار کیا ہونا چاہیے۔
7 ... اگر آپ ایک خاندان، قبیلے یا فوج کی قیادت کر رہے ہیں، یا زمامِ حکومت سنبھالے ہوئے ہیں تو مطالعہِ سیرتِ نبوی سے آپ کو ایک مضبوط نظام اور مستحکم اسلوب ملے گا۔
8 ... مطالعہِ سیرت سے زاہدوں کو زہد کا مفہوم، تاجر کو تجارت کے مقاصد و اصول، آزمائش میں مبتلا لوگوں کو صبر و ثبات کے اعلی درجات کا علم حاصل ہوتا ہے۔
9 ... افراد کی تربیت 'قیام حکومت ہو یا امتِ مسلمہ کی تعمیر مطالعہِ سیرتِ نبوی اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کے استحکام کے لیے علماء، فقہاء، قائدین، اور حکمرانوں کی معاونت کرتا ہے۔ اس سے ترقی کے عوامل اور زوال کے اسباب سے آگاہی ملتی ہے۔
اس زمانے میں مطالعہ سیرت کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ مثال کے طور پر فہمِ قرآن کی گہرائی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سیرت نبوی کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں مختلف غزوات کا تذکرہ موجود ہے اور اسے سمجھنے کے لیے سیرت کا مطالعہ ضروری ہے۔
اسی طرح آج مسلمانوں کا اقوام عالم کی قیادت سے پیچھے رہ جانا یہ واضح کرتا ہے کہ ہم نے اپنے مشن کو فراموش کر دیا ہے، اور نتیجتاً اپنے مقام سے نیچے گر گئے ہیں۔ ہم نے سنت الہی سے بے اعتنائی برت لی ہے اور سمجھتے ہیں کہ اقتدار خوابوں اور تمناؤں سے حاصل ہوتا ہے۔ اس ایمانی کمزوری، فکری بےراہ روی، روحانیت کے فقدان، دلی اضطراب، ذہنی انتشار اور اخلاقی گراوٹ کا سبب مسلم امہ اور سیرت نبوی کے اصول و قوانین کے درمیان حائل بہت بڑی خلیج ہے۔
ہمیں یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ بعثت سے پہلے دنیا کی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی صورتحال کیا تھی۔ اور بعثت کے بعد عہدِ مکی میں نظریاتی اخلاقی اور اطاعت و بند کی بنیادیں کیا تھیں؟ عہدِ مدنی میں آپ نے کس طرح معاشرے کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا؟ تربیت کیسے کی؟ قیام حکومت کے لیے کن کن وسائل کو اختیار کیا اور داخلی و خارجی دشمنوں کا کس طرح مقابلہ کیا؟
ہمیں یہ بھی جاننے کی سخت ضرورت ہے کہ وہ کیا تربیت تھی، جس کی بدولت مختصر ترین عرصے میں محمد رسول اللہ ﷺ کی تربیت پا کر چرواہے اور پھیری لگانے والے عظیم سکالر اور کامیاب ترین استاد بن گئے۔ راستوں اور بازاروں میں سامان رکھ کر بیچنے والے چھوٹے تاجر نئی روایات قائم کرنے والے سفارت کار بن گئے۔ لکڑہارے اور کاشتکار مستعد کارپرداز بن گئے۔گلابان اور مزدور کامیاب ترین حکمران اور عظیم ترین سپہ سالار بن گئے۔
یہ بھی جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ قوموں کی تربیت اور حکومت کے قیام کے سلسلے میں طریقہِ نبوی کیا تھا؟ آپ نے جب دنیا میں دعوتِ الہی کا آغاز کیا تو ان اقوام کے ساتھ کیسا طرزِعمل اختیار کیا تھا؟ تاکہ ہم اپنی دعوت اور دین کے استحکام کے لیے اپنی عمارت کی بنیادیں اسی منہجِ سلیم پر استوار کریں جس کے اصول و فروع کتاب و سنت سے ماخوذ ہوں۔ یہ حالات کا تقاضا بھی ہے اور وقت کی ایک اہم ترین ضرورت بھی۔ اسی میں ہمارے تمام پیچیدہ مسائل کا حل ہے۔ اسی میں دونوں جہانوں کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔