نماز سے زندگی بدلیں ۔ ابویحییٰ

 
 
نماز اسلامی عبادات میں سب سے اہم اور بنیادی عبادت ہے۔ نمازکی فرضیت، اہمیت، فضیلت اتنی زیادہ بیان کی جاتی ہے کہ دین کی طرف آنے والا ہر شخص نماز کی پابندی کا اہتمام کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔ اس وقت بھی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو پنج وقتہ نماز پابندی سے ادا کرتی ہے۔
 
تاہم اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ نماز کے جو اثرات فرد اور اس کے نتیجے کے طور پر معاشرے کی اجتماعی زندگی پر نظر آنے چاہئیں وہ نظر نہیں آتے۔ مثلاً قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ نماز پڑھنے کا عمل انسان کو فواحش اور منکرات سے روکتا ہے،(العنکبوت45:29)۔ مگر اس کے باوجود مشاہدہ ہے کہ باقاعدہ نمازیوں کی زندگی میں بھی باقی لوگوں کی طرح فواحش اور منکرات سب شامل ہوتے ہیں۔ ان کی نماز ان کی زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لاتی۔
 
اس کا بنیادی سبب نماز کی حقیقت جو اس کی روح ہے، اس سے غافل رہ جانا ہے۔ نماز اپنی حقیقت میں خدا کی پرستش ہے۔ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے کہ نماز پڑھنے کا مقصد خدا کی یاد کو تازہ کرنا ہے، (طہ14:20)۔ نماز کے عمل میں انسان کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ خدا کے قرب کو حقیقی معنوں میں محسوس کرسکتا ہے، (العلق19:96)۔
 
تاہم نماز کی اس حقیقت اور مقصد کا اصل تعلق انسانی نفسیات اور انسانی ذہن کے ساتھ جڑا ہے۔ اگر کوئی شخص نماز اس طرح پڑھ رہا ہے کہ دوران نماز اس کا ذہن کہیں اور بھٹک رہا ہے، جو کچھ وہ نماز میں پڑھ رہا ہے اس کا ایک لفظ بھی اسے سمجھ میں نہیں آرہا، اس کے لیے نماز بس ایک رسم و عادت کی چیز ہے اور عین نماز میں بھی اس کی نفسیات خدا کے سامنے نہیں جھکی تو اس طرح کی نماز کا وہ فائدہ انسان کو نہیں مل سکتا جو قرآن پاک میں مذکور ہے۔
 
اس ضمن میں البتہ ایک سوال یہ ہے کہ بہت سے لوگ سنجیدگی سے نماز کو اس کی روح کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر عملی طور پر ہوتا یہ ہے کہ وہ اپنی مصروفیات میں اس طرح منہمک ہوتے ہیں کہ ان کا ذہن پوری طرح وہیں لگا ہوا ہوتا ہے۔ وہ کام کے دوران میں نماز کے لیے اٹھتے ہیں اور نماز کو کسی طرح بھی ادا کرکے واپس کام کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسی نماز میں نہ خدا یاد آتا ہے نہ نماز کی حقیقت اور مقصد یاد رہتا ہے۔
 
اس مسئلے کا حل بھی خود قرآن مجید نے بیان کر رکھا ہے۔ ایک یہ کہ نماز سے قبل وضو کی شرط رکھی گئی ہے۔ وضو کا عمل انسان کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ دنیا اور مسائل دنیا سے خود کو وقتی طور پر پاک کرلے۔ دوسرے یہ کہ اہل ایمان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ نماز میں خشوع اختیار کریں۔ خشوع دل میں پیدا ہونے والے اس رعب کا نام ہے جس کے نتیجے میں انسان میں پستی اور عاجزی کے اثرات آجاتے ہیں۔ یہ خشوع پیدا ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ انسان نفسیاتی طور پر خود کو خدا کے سامنے نہ سمجھے۔ چنانچہ جو شخص نماز میں اس حکم کی تعمیل کی کوشش کرے گا، وہ خود میں حیرت انگیز تبدیلی دیکھے گا۔
 
تاہم اس کے باوجود بھی اگر تبدیلی نہ آئے تو پھر ہر نماز کے بعد کچھ دیر بیٹھ کر بس اتنا حساب لگا لیا جائے کہ میں نے جو نماز میں ابھی کہا ہے کہ اے رب مجھے سیدھی راہ دکھا تو خود میں اس نماز سے پچھلی نماز تک اس سیدھی راہ پر چلا ہوں۔ جو غلطی نظر آئے اس پر معافی مانگے اور اگلی نماز تک سیدھی راہ پر چلنے کا عزم کرے۔ یہ فکر کی وہ عظیم عبادت ہے جو اپنی ذات میں اللہ کو مطلوب ہے اور نماز کے بعد کچھ دیر بیٹھ کر یہ کام کرنا بہت آسان بھی ہے اور بہت مفید بھی۔
 
جو لوگ اس طرح نماز کو اپنا معمول بنائیں گے وہ دیکھیں گے کہ ان کی نماز نے واقعی ان کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ یہ چیز ان شاء اللہ رفتہ رفتہ پورے معاشرے کو بدل کر رکھ دے گی۔