پنجاب کی اہم یونیورسٹی کے وائس چانسلر گرفتار

لاہور(نمائندہ کریئر کاروان) سابق وی سی سرگودھا یونیورسٹی محمد اکرم اورپنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے گرفتار کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مجاہد کامران کو نیب نے آج تفتیش کے لیے طلب کر رکھا تھا۔ ڈاکٹر مجاہد کامران اپنا بیان ریکارڈ کرانے نیب آفس گئے تھے جہاں ان کو قومی احتساب بیورو نے باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا۔نیب پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔نیب کے مطابق مجاہد کامران نے بڑے پیمانے پر یونیورسٹی میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کیں۔ ان پر اپنی اہلیہ شازیہ قریشی کو غیرقانونی طور پر یونیورسٹی لاءکالج کی پرنسپل تعینات کر نے کا الزام بھی ہے۔نیب کا ایگزیکٹو بورڈ ڈاکٹر مجاہد کامران کے خلاف انکوائری کی منظوری پہلے ہی دے چکا ہے۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کو بطور ایکٹنگ وائس چانسلر سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے 3بار عہدے پر توسیع بھی دی تھی۔
مذکورہ معاملہ سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مجاہد کامران نے پنجاب یونیورسٹی میں تعیناتی کے دوران من پسند طلبہ کو اسکالر شپس دیں۔9سالہ دور میں ان پر لاتعداد سیاسی بھرتیاں کرنے کا الزام بھی لگتارہا ہے۔سابق وائس چانسلر پر پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دینے کا الزام بھی ہے۔گزشتہ روز احتساب عدالت نے سرگودھا یونیورسٹی کی جانب سے لاہور اور منڈی بہاؤالدین میں کھولے گئے غیر قانونی کیمپس کیس میں گرفتارسابق وی سی محمد اکرم سمیت 6 ملزموں کو10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا تھا۔سرگودھا یونیورسٹی کی غیر قانونی برانچیں بنانے کے کیس میں سابق وی سی سرگودھا یونیورسٹی محمد اکرم اور سابق رجسٹرار بریگیڈ یئر (ر) راؤجمیل، چیف ایگزیکٹو لاہور کیمپس میاں جاوید اور ڈائریکٹر ایڈمن محمد اکرم ،چیف ایگزیکٹو منڈی بہاؤالدین کیمپس وارث ندیم وڑائچ اور پارٹنر میاں نعیم کو گرفتار کیا گیا ہے۔