نیب کے عتاب کا شکار۔۔کون سی یونیورسٹی؟

قومی احتساب بیورو (نیب) نے جامعہ کراچی کے مختلف انتظامی امور میں بے قاعدگیوں کی ایک بارپھرنشاندہی کرتے ہوئے موصولہ شکایات کا جائزہ لیناشروع کردیا جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ سے نیب کی گزشتہ ایڈوائس پر عمل درآمد رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔نیب نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرمحمد اجمل خان کولکھے گئے ایک خط میں واضح طورپرکہاہے کہ نیب کو جامعہ کراچی میں انتظامی اسامیوں پراساتذہ کی تعیناتیوں، ریٹائرڈ ملازمین کے تقرر اور ”اوورٹائم“ کے مد میں مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں۔ خط میں جامعہ کراچی کے سابق رجسٹرار منور رشیدکاتذکرہ کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ نیب کی جانب سے انھیں زبانی طور پرکئی باریاددہانی کرائی گئی تاہم جامعہ کراچی کی جانب سے نیب کی دی گئی ایڈوائزری کے سلسلے میں عملدرآمد رپورٹ پیش ہی نہیں کی گئی۔
اس خط کے بعد جامعہ کراچی کے شعبہ مالیات کے ایک اعلیٰ افسرنیب میں پیش ہوئے ہیں تاہم وہ نیب ایڈوائزری کے حوالے سے عمل درآمد کے معاملے پر نیب کومطمئن نہیں کرسکے۔ذرائع کے مطابق یہ خط یونیورسٹی کوگزشتہ ماہ بھجوایا گیا ، خط میں نیب نے سیکریٹری یونیورسٹیزاینڈبورڈز کی زیرصدارت اور ڈائریکٹر جنرل نیب (کراچی)کی موجودگی میں منعقدہ وائس چانسلرز کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ”ہیومن ریسورس، جامعات کی زمینوں اورمالیاتی حوالوں“کے معاملات ایڈوائزری پر عملدرآمد کے لیے اس اجلاس میں زیربحث آئے تھے تاہم اس کے باوجود نیب کو جامعہ کراچی کی جانب سے ان ایڈوائسز پر عملدرآمدسے آگاہ نہیں کیاگیا۔
جس کے بعد بے قاعدگیوں کی مزیدشکایات بھی موصول ہورہی ہیں جس میں خاص طورپرانتظامی اسامیوں پراساتذہ کی تعیناتی،ریٹائرڈملازمین کے تقرر اور”اوورٹائم“کی شکایات شامل ہیں۔گزشتہ برس نیب نے جامعہ کراچی میں غیرتدریسی اسامیوں پر اساتذہ کی تعیناتی پر شدیداعتراض کیاتھاتاہم اس کے باوجود بھی اس وقت جامعہ کراچی میں رجسٹرار،ناظم امتحانات، چیئرمین ٹرانسپورٹ اورچیئرمین گارڈننگ کونسل کے عہدوں سمیت دیگر ”بجٹڈپوسٹس“پراساتذہ تعینات ہیں۔
واضح رہے کہ سرکاری جامعات کے ترمیمی ایکٹ 2018ءکے نفاذکے بعداب رجسٹراراورناظم امتحانات کی تقرریوں کااختیارپبلک سیکٹرجامعات کوواپس دے دیاگیاہے تاہم جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے مذکورہ دونوں اسامیوں کاتاحال اشتہارجاری کیااورنہ ہی ان اسامیوں کاچارج تدریسی عملے سے واپس لیاگیا۔جامعہ کراچی میں اس وقت رجسٹرارکے عہدے پر پروفیسرماجد ممتازجبکہ ناظم امتحانات کے عہدے پر شعبہ ہیلوفائیٹ کے ڈاکٹرعرفان عزیزتعینات ہیں۔قابل ذکر امریہ ہے کہ ایک جانب نیب کی جانب سے ریٹائرافرادکی دوبارہ تعیناتی پرتنقید کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب جامعہ کراچی کے وائس چانسلرنے بحیثیت رئیس کلیہ قانون پہلے ہی سے ریٹائرجسٹس(ر)غوث محمد کو عہدے کی مدت پوری ہونے کے بعد مزید6 ماہ کے لیے اسی عہدے پردوبارہ تعینات کردیاہے۔
یادرہے کہ اس تعیناتی کااختیارحکومت سندھ کے پاس ہے تاہم ریٹائر ڈین کی تعیناتی بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی ہے۔ ترجمان جامعہ کراچی کاکہناہے کہ وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹرمحمد اجمل خان کے مطابق انتظامیہ نے 4ماہ سے وزیراعلیٰ ہاو¿س کوخط بھجوایاہواہے تاحال کوئی جواب نہیں ملا،اُن کے مطابق ہمیںفیکلٹی توچلانی ہے لہٰذایہ اقدام کرنا پڑا۔ ترجمان کامزیدکہناتھاکہ نیب کے حوالے سے خط کی موصولی وائس چانسلرکے علم میں نہیں ہے۔