واٹس ایپ صارفین کو جدید ترین ورژن انسٹال کرنے کا مشورہ

واٹس ایپ صارفین کو جدید ترین ورژن انسٹال کرنے کا مشورہ
واٹس ایپ کا اپنے ڈیڑھ ارب سے زائد صارفین سے کہنا ہے کہ وہ اس ایپ کا جدید ترین ورژن انسٹال کرلیں کیونکہ وائس کال کے ذریعے اس میں اسپائی ویئر یا جاسوس ایپس انسٹال ہونے یا فون پر نقب زنی کا خطرہ ہے ، استعمال کرنے والے کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ واٹس ایپ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہم درخواست کرتے ہیں کہ صارفین ایپ کو اپ گریڈ/دوبارہ انسٹال کرلیں تاکہ اس طرح اپنے موبائل آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ حملہ آور پروگراموں سے بھی بچا جا سکے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل اس صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اصل خبر یہ ہے کہ ایک اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کمپنی(این ایس او) نے فون کال کی آڑ میں کئی اہم صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے فون کی ہیکنگ کی ہے ، ان کےفون میں اپنے اسپائی ویئر اتار دیئے ہیں۔ دوسری جانب این ایس او نے مؤقف پیش کیا ہے کہ اس کا خاص مقصد جرائم اور دہشت گردی سے لڑنا ہے اور ان کی کمپنی باقاعدہ حکومتی لائسنس یافتہ ہے تاہم یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں قائم ’دی سٹیزن لیب‘ نامی ایک ادارے نے کہا ہے کہ اسرائیلی کمپنی نے انسانی حقوق سے وابستہ ایک وکیل کو بھی ہدف بنایا ہے۔ حملوں کا یہ سلسلہ اس اتوار سے شروع ہوا ہے۔ واضح رہے کہ 2016 میں این ایس او گروپ پر متحدہ عرب اماراتی باشندوں کی جاسوسی اور ان کے فون سے ڈیٹا چرانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان کا بنایا ہوا کوڈ اتنا مؤثر ہے کہ اگر کوئی فون کال کا جواب نہ بھی دے تب بھی وہ فون کو اپنا ہدف بنالیتا ہے، بسا اوقات اجنبی نمبر سے آنے والی یہ کال لاگ سے ازخود غائب بھی ہوجاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد سائبر سیکیورٹی کمپنیوں اور تجزیہ کاروں نے واٹس ایپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس کے ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ اور محفوظ تر ہونے کے دعووں پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔