وزیراعظم تعلیمی اصلاحات پروگرام میں احسن قدم

وزیراعظم پاکستان تعلیمی اصلاحات پروگرام کے تحت پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں کو یکمشت بسیں فراہم کرنے کے لیے وزارت کیڈ اور وفاقی نظامت تعلیمات کی موجود انتظامیہ کی کوششیں شامل ہیں۔وزیراعظم تعلیمی اصلاحات پروگرام کے تحت 70 مزید بسیں رواں ماہ وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کو فراہم کر دی جائیں گی۔وزیر اعظم تعلیمی اصلاحات پروگرام کے تحت سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے 423سرکاری تعلیمی اداروں میں تزئین و آرائش سمیت 200بسیں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت اب تک 130بسیں تقسیم کر دی گئی ہیں،مذکورہ بسیں ملک میںبس تیار کرنی والی معروف کمپنی سے منگوائی گئی ہیں جن کی خریداری وزارت کیڈ کی جانب سے جاری کردہ ٹینڈرز میں دی گئی شرائط و ضوابط کے مطابق باضابطہ کی گئی ہے جبکہ ان بسوں کی خریداری کے لیے وزارت کیڈ اور وزارت خزانہ کی باقاعدہ منظوری سے ایڈوانس پے منٹ کی گئی تھی جو کہ فی بس 64لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
ان بسوں کی قیمت فی بس 75لاکھ کے قریب بتائی گئی ہے تاہم تعلیمی ادارے ہونے کے باعث وفاقی نظامت تعلیمات کو فی بس 64لاکھ روپے ادا کرنے پڑے ہیں دوسری جانب یہی بسیں ایک اور سرکاری ادارے کو 74لاکھ روپے فی بس کے حساب سے فروخت کی گئی ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ ان بسوں کی خریداری کے وقت بسوں کی چھت پرجنگلہ لگوانے ، لائٹیں اور حفاظتی اقدامات سمیت انجن کی پاور، فی کلومیٹر فیول کے اخراجات اور باڈی کی بناوٹ کے حوالے سے باقاعدہ انسپیکشن بھی کرائی گئی۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی نظامت تعلیمات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹرطارق مسعود نے بتایاکہ بسوں کی خریداری قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئی ہے اور اس کے لیے وزارت کیڈ اور وزارت خزانہ کی باقاعدہ منظوری لی گئی ہے، اسلام آباد کو ماڈل نالج سٹی بنانے اور یہاں کے رہائشیوں کوبہتر تعلیمی سہولیات فراہمی کے لیے ان کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں جبکہ ان بسوں کے حوالے سے کمپنی نے مکمل بینک گارنٹی بھی دے رکھی ہے مزید براں اس سے قبل اسی کمپنی سے بینک گارنٹی کے تحت مکمل رقم بھی 3ماہ تک مزید بحق FDE محفوظ ہے۔