وزیر اعظم ہاؤس یونیورسٹی ،چاروں گورنرہاؤس میوزیم

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ وزیراعظم ہائوس کو ا علٰی در جے کی یونیورسٹی اور چاروں گورنر ہائوسز کو میوزیم بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر سرکاری عمارتوں کو سیاحتی مقامات اور ہوٹلز میں تبدیل کیا جائے گا، پنجاب ہائوس مری کو سیاحوں کیلئے ایک ٹورسٹ کمپلیکس میں تبدیل کردیا جائے گا، پنڈی پنجاب ہائوس آرٹس کالج کو دینے کی تجویز ہے ،ان عمارتوں پر آنے والے سالانہ 105 کروڑ روپے کے اخراجات کی بچت ہو گی ، حکمرانوں کا رہن سہن ایسا ہو کہ عوام کا پیسہ ضائع نہ ہو، وزیراعظم ہائوس ایک ہزار 96 کنال پر مشتمل ہے ،اس کا سالانہ خرچہ 47 کروڑ ہے ،مجموعی طورپر وزیراعظم اور گورنر ہا ئوسز پر 115 کروڑ روپے سالانہ خرچ آتا ہے،

مزید پڑھیں: نوجوان بہتری کیلئے کوشاں رہیں،تمام صوبوں میں نسٹ کے کیمپس قائم کرینگے :آرمی چیف

 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم کی زیر صدارت تاریخی عمارات کے دوبارہ استعمال مجوزہ منصوبے کے بارے میں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 1096 کنال پر محیط وزیراعظم ہائو س اسلام آباد کو ایک ا علٰی درجہ کی یونیورسٹی میں تبدیل کیا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے پیچھے موجود زمین پر یونیورسٹی کی نئی عمارت تعمیر کی جائے گی، یونیورسٹی کے لئے پی سی ون بنایا جائے گا، یونیورسٹی کے قیام کے لئے وزیر تعلیم شفقت محمود، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری اور ڈاکٹر عطا الرحمن پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے ، یہ یونیورسٹی تعلیمی لحاظ سے منفرد ہو گی ،گورنمنٹ ہائوس مری کو ہیریٹج بوتیک ہوٹل بنایا جائے گا ،پنجاب ہائوس مری کو سیاحتی کمپلیکس میں تبدیل کیا جائے گا، پنجاب ہائوس مری پر سالانہ اڑھائی کروڑ روپے اخراجات آ رہے تھے ، راولپنڈی میں پنجاب ہائوس اور اس سے ملحق گورنر انیکسی جو کہ مجموعی طور پر 70 کنال اراضی پر محیط ہیں پر سالانہ چار کروڑ روپے اخراجات آ رہے تھے کو ا علٰی تعلیمی ادارے میں تبدیل کیا جائے گا، اس بارے میں فیصلہ پنجاب حکومت کرے گی ،گورنر ہائوس لاہور جو کہ 700 کنال اراضی پر مشتمل ہے میں قائم ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور سکول کو الگ کر کے عمارت میں میوزیم اور آرٹ گیلری بنائی جائے گی جبکہ اس کے پارکس کو عوام کے لئے کھول دیا جائے گا، گورنر ہائوس کی مال روڈ والی دیوار کو گرا کر یہاں خوبصورت جنگلہ لگایا جائے گا تاکہ عوام باہر سے بھی اس کا نظارہ کر سکے ، اجلاس میں شاہرہ قائداعظم کو کرافٹ میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، یہاں وزیر ا علٰی کا دفتر قائم تھا اور اس عمارت پر آٹھ کروڑ روپے کے سالانہ اخراجات آتے تھے ، اس عمارت کے کانفرنس ہال کو پبلک کے لئے رینٹ آئوٹ کیا جائے گا اور اس سے بھی آمدن حاصل ہو گی چنبہ ہائوس جو کہ تاریخی عمارت ہے کو گورنر آفس کے لئے استعمال کیا جائے گا، سٹیٹ گیسٹ ہائوس مال روڈ لاہور جو اس وقت فارن آفس کے پاس ہے ، ان سے گفت و شنید کے بعد اسے فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، گورنر ہائوس کراچی میں میوزیم بنایا جائے گا، یہ تجویز سندھ حکومت کے ساتھ مل کر آگے بڑھائی جائے گی جبکہ سٹیٹ گیسٹ ہائوس کراچی کو گورنر ہائوس کے طور پر استعمال کیا جائے گا ،اجلاس میں قصر ناز کراچی کی عمارت کو فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، گورنر ہائوس بلوچستان کو میوزیم اور بلوچ ہیریٹج میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ اس کے پارکس کو صرف خواتین کے لئے مخصوص پارک بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،گورنر ہائوس پشاور جو ایک تاریخی عمارت ہے کو میوزیم اور قبائلی ثقافت کا عکاس بنایا جائے گا، نتھیا گلی گورنر ہائوس کو ایک ا علٰی درجہ کے ہوٹل اور سیاحتی مقام میں تبدیل کیا جائے گا ، ان فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے وزیراعظم کی زیر صدارت عملدرآمد کمیٹی کام کر رہی ہے جو اس پر عمل کرائے گی ، ایوان صدر سے متعلق فیصلہ بھی دوسرے مرحلے میں کیا جائے گا۔