نجی سکولوں کی فیس میں اضافہ غیرقانونی

سندھ ہائی کورٹ نے نجی اسکولز کی جانب سے فیسوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ غیر قانونی قرار دیتے  ہوئے وصول کی گئی رقم واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے تین رکنی لارجر بینچ نے چھ جون کو سماعت مکمل ہونے پر اسکول فیس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عدالت کے تفصیلی فیصلے کے مطابق نجی اسکولز پانچ فیصد سے زائد وصول کردہ فیس تین ماہ میں واپس کریں یا پھر ماہانہ میں ایڈجسٹ کریں۔ نجی اسکولز زیادہ سے زیادہ سالانہ پانچ فیصد اضافہ کرسکتے ہیں لیکن اس کیلئے بھی اخراجات کی تفصیل اور جواز دینا ہوگا- فیس میں پانچ فیصد اضافہ بھی سندھ حکومت کی منظوری کے بغیر نہیں ہوگا اور حکومت مطمئن نہ ہو تو اضافی رقم واپس دلوا سکتی ہے۔ اسکے علاوہ فیصلے میں فیسوں میں اضافے سے متعلق آرڈیننس کی شق 7 (3) کو قانونی جب کہ دو رکنی بینچ کا نیا قانون اور کمیٹی بنانے کا حکم بھی غیر موثر قرار دیا۔

فیصلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ فیس میں سالانہ اضافے سے والدین کے بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ مفت تعلیم کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن تعلیمی بجٹ ضائع کیا گیا اور کرپشن کی نذر ہوگیا۔

حکومت 16 سال تک کے بچے کو مفت تعلیم دینے کی پابند ہے لیکن افسوس 70 سال میں کسی حکومت نے ذمہ داری پوری نہیں کی۔ حکومتی رویوں نے اداروں اور تعلیمی نظام کو تباہ کیا اور حکومتی غفلت نے ہی تعلیم کو بھی منافع بخش کاروبار بنایا۔ مڈل اور لوئر مڈل کلاس طبقے پر بوجھ ڈال دیا گیا۔ حکومت ملک میں یکساں تعلیمی نظام رائج کرے۔