پُرسکون زندگی کا راز

قاسم علی شاہ
پُرسکون زندگی کا راز
اپنی کسمپرسی اور غریب حالی پرباباجی کی آنکھیں بھر آئی تھیں ،ان کے شب و روز اتنہائی تنگ دستی میں گزررہے تھے ۔بے بسی کی انتہاء تب ہوئی جب ان کے پاؤں میں جوتے بھی نہ رہیں۔حالات سے مجبورہوکر وہ اللہ سے شکوہ کرنے مسجد چلے گئے۔دل میں آیا کہ آج تو اللہ سے خوب روروکر شکایت کروں گا ۔مسجد گئے،نما ز پڑھی اور دل کا سارا غبارآنسوؤں میں نکال کر باہرنکلے توایک عجیب منظر ان کا منتظر تھا۔
انہوں نے مسجد کی سیڑھیوں پرایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا جس کے سِرے سے پاؤں ہی نہیں تھے!ان کے دل کو دھچکا لگا،ضمیر نے ملامت کیا اوراندر سے آواز آئی کہ اگر اس وقت جوتے نہیں تو کیا ہوا ،پاؤں تو سلامت ہیں !اگر کھانے کو کچھ نہیں ،صحت تو ہے!اگر زندگی تنگدستی کا شکار ہے ،سانس تو چل رہی ہے! ان کی روح کو چوٹ لگی ،غلطی کا احساس ہوا اور فوراًسجدے میں گِرکر گڑگڑانے لگے ، اپنے شکوہ شکایت پر اللہ سے معافی مانگی اورجسمانی سلامتی پر شکراداکرنے لگے۔
زندگی کیا ہے ؟ ایک قیمتی متاع اور ایک نااعتبار سفر ، جس میں کبھی خوشیوں بھرے قہقہے ہیں تو کبھی آہوں اور سسکیوں کی دردناک آوازیں ،کبھی تو انسان بے بسی کے عالم میں پانی کی ایک ایک بوند کو ترستا ہے تو کبھی مال و دولت کی فراوانی میں ساری آرزؤں کے پورا ہونے پردنیا سے ہی دل بھرجاتاہے۔انسان کونعمت کا احساس تب ہوتاہے جب وہ چھن جاتی ہے۔حالتِ محرومی میں انسان اللہ کے زیادہ قریب ہوتاہے بشرطیکہ اس کی زبان پر ناشکری نہ ہو۔کیونکہ صبر کا مطلب ہی یہی ہے کہ زبان کو شکوہ و شکایت سے آلودہ نہ کیا جائے۔
جب تک انسان غم کے دروازے سے نہ گزراجائے اس کو تکلیف اور دُکھ کا احساس نہیں ہوتا۔اتفاق سے کبھی انگلی میں سوئی چبھ جائے تو اس کو بڑی تکلیف سمجھتا ہے۔مگر یہی انسان جب کسی کٹے ہوئے بازوں یا بینائی سے محروم شخص کو دیکھتا ہے تو اس کو سمجھ آتی ہے کہ مجھ پر اللہ کا کتنا کرم ہے۔حدیث مبارکہ میں بھی آیا ہے کہ
’’ جب کسی انسان کو مصیبت میں مبتلا دیکھوتو اپنی سلامتی پر اللہ کا شکر اداکرو۔‘‘(جامع الترمذی)
کیونکہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا کہ آپ کوبھی مصیبت میں مبتلا کردیتامگر یہ اس کافضل ہے جس کاشکر بجالانا انسان پرفرض ہے۔
اپنی تربیتی زندگی میں ، میں جن بزرگوں کی صحبتوں میں رہا ہوں وہاں مجھے ایسے حالات سے بھی گزرنا پڑا جوعام زندگی میں بڑے سخت ہوتے تھے۔مگر میں شیخ کا حکم اور اپنی تربیت سمجھ کران حالات کو قبول کرتا تھا کیونکہ بقول باباجی کے’’ نفس کو دبانے اور کمزور کرنے کے لیے یہ سب چیزیں ضروری ہوتی ہیں اور ساتھ میں یہ اس احساس بھی زندہ کرنے کے لیے کہ’’ جب دسمبر کی ٹھٹھرتی سردی میں کسی مفلس کو بدحال دیکھو تو بے اختیار اپنا گرم کوٹ اتار کر اس کو پہنا دو!‘‘ کہ یہی جذبہ ٔ انسانیت ہے۔
زندگی کی بے ثباتی اور انسان کی بے بسی کاعالم دیکھنا ہو تو کسی ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں چلے جائیں۔آپ کو احساس ہوگاکہ دردسے تڑپتے انسان اور آہوں وسسکیوں سے بھرپور التجائیں کیا ہوتی ہیں۔
مرض الموت میں مبتلا کسی انسان کے لواحقین کی دِل چیرنے والی آہ و زاری کہ ’’یاخدا! بس ایک دفعہ اس کو واپس زندگی کی طرف بھیج دے‘‘آپ کو زندگی کی قدر دلانے کے لیے کافی ہوگی۔
آپ جیل میں جاکر دیکھ سکتے ہیں کہ قید و بند اور تنہائی کی اذیتوں سے تنگ آکر موت کی دعا مانگنے والے لوگ کس کیفیت میں ہیں۔آزاد فضائوں میں سانس لینے کی قدرتب جاکر پتہ لگتی ہے۔
کسی دارالامان میں جاکردیکھ لیں کہ کیسے نوجوان لڑکیاں اپنے ہی رشتہ داروں اور عزیز واقارب کے ستم سے تنگ آکرگھر سے باہردوسروں کے سہاروں پرجینے پر مجبور ہیں۔اپنی خودداری اور چاردیواری کی قدر تب معلوم ہوتی ہے۔
یہ سب کچھ کسی بھی باشعور انسان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ دراصل یہ قانونِ قدرت ہے تا کہ ہر انسان کھلی آنکھوں سے دیکھ لے کہ میں جن نعمتوں پر ناشکری کررہا ہوں ،دوسرے شخص کے پاس تو وہ موجود ہی نہیں ،ایسے واقعات اور افراد کودیکھ کر انسان کو احساس ہوجاتاہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ نے جو کرم کیا ہے وہ میرے اعمال اور اوقات سے بہت بڑھ کر ہے۔
خوشی ، راحت،سکون، صحت اور سب سے بڑھ کر سانس کی قدر تب معلوم ہوتی ہے جب انسان غم ، درد،تکلیف ،بیماری اور بے بسی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ہارٹ اٹیک میں مبتلا ایک مریض کوسب سے مہنگے ہسپتال میں داخل کرایاگیا ۔چیک اپ کے بعد ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ کا آپریشن ہوگا جس پر تقریباً دس لاکھ روپے خرچ ہوں گے ۔مریض نے سنا تو رونے لگا۔ڈاکٹر نے کہا:لگتاہے کہ پیسوں کی قلت کی وجہ سے آپ رورہے ہیں ۔مریض نے کہا:ایسی بات نہیں ،میری عمر ستاون سال ہے ۔جس رب نے دل کی نعمت دی تھی ستاون سالوں میں ایک دفعہ بھی اس نے فیس نہیں مانگی ۔مگر آج معمولی طبعیت کیاخراب ہوئی کہ ایک آپریشن پرلاکھوں روپے لگانے پڑرہے ہیں۔
خوش قسمت انسان وہی ہے جواپنی موجودہ نعمتوں پر رب کا شکرگزار ہواور اس ناپائیدار زندگی میں دوسروں کے کام آئے ، بہترین اخلاق کی بدولت دوسروں کے لیے آسانیاں فراہم کرے اور دنیا کے لیے کچھ کرکے جائے۔کیونکہ لوگ مرجاتے ہیں ، وقت کی دُھول میں بھول جاتے ہیں مگر۔۔ انسان کابہترین کردار اور اس کی نیکی کبھی نہیں بھولتی۔حدیث شریف میں اللہ کے نبی (ص) نے فرمایا:
’’دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے انسان کو دیکھو اور اس شخص کو مت دیکھو جوتم سے (دنیا وی لحاظ میں) اوپر ہے اور اللہ کی ا س نعمت کو حقیر نہ جانو جو تم پرکی گئی ہے۔‘‘ (صحیح البخاری و صحیح المسلم )
حضور (ص) کے اس ارشاد کو اگر آج ہم اپنی زندگی میں اپنالیں تومال ودولت کی بے جا حرص اور ناشکری کے جذبات سے بچ جائیں گے۔