پہلے کنگال ہوکر،پھر چند سال میں ہی دوبارہ ڈھیروں دولت کیسے کمالی؟

ارب پتی آدمی جو کنگال ہوگیا، لیکن پھر اس نے چند سال میں ہی دوبارہ ڈھیروں دولت کیسے کمالی؟ اس کی زندگی کی کہانی جو نوجوانوں کو ضرور معلوم ہونی چاہیے
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) 38سالہ میٹ ہیکوکس نامی یہ برطانوی شخص ارب پتی باپ کی اولاد تھا، بچپن اور لڑکپن انتہائی پرآسائش گزارا اور پھر خود کاروبار شروع کر دیا لیکن ایک دہائی قبل آنے والی عالمی مالی بحران نے اسے کنگال کر دیا۔ اب وہ ایک بار پھر ارب پتی بن چکا ہے اور اس نے اپنی ارب پتی سے کنگال ہونے اور پھر دوبارہ دولت کمانے کی کہانی دنیا کو سنائی ہے جو ہر نوجوان کو معلوم ہونی چاہیے۔ دی مرر کے مطابق میٹ ہیکوکس کا کہنا ہے کہ ”بچپن میں میرے پاس اس دور کا ہر مہنگے سے مہنگا کھلونا ہوتا تھا اور جوانی میں سپر کاریں میرے گیراج میں کھڑی ہوتی تھی۔ میں ہزاروں پاﺅنڈز ہفتے کی چھٹیوں پر دوستوں کے ساتھ پارٹی کرنے میں خرچ کر دیتا تھا، لیکن پھر میں نے کچھ ایسی غلطیاں کیں کہ میں کنگال ہو گیا۔ اب میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں تاکہ وہ بھی ایسی غلطیاں نہ کریں اور میرے جیسے حالات سے بچ سکیں۔“
 
میٹ نے کہا کہ ”نوجوان میں میں بہت حریص تھا، مجھے ہمیشہ مزید کی خواہش ہوتی اور اس کے لیے میں لوگوں کی بری نصیحتوں پر بھی عمل کر گزرتا تھا۔ چنانچہ 28سال کی عمر میں میرا سب کچھ اجڑ گیا اور دیوالیہ ہونے کے باعث مجھ پر 12سال کے لیے کمپنی ڈائریکٹر بننے پر پابندی عائد ہو گئی۔ اس پر میں نے لوگوں کی مدد کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر لی۔ 2008ءکا سال میرے لیے کم بختی کا سال تھا، میں نے اس کے بعد بہت برا وقت دیکھا لیکن ہمیشہ مجھے یقین رہا کہ ایک دن میں اس برے وقت سے نکل آﺅں گا۔ آج میں پہلے سے زیادہ کامیاب شخص ہوں۔“
 
 
میٹ کا کہنا تھا کہ ”میں نے2003ءمیں میں نے شراب خانوں اور کلبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی جو شروع میں بہت منافع بخش رہی لیکن 2008ءمیں مالی بحران کے باعث فنڈز دینے والوں نے معاہدوں کی تجدید کرنے کی بجائے اپنی قرض کی رقم واپس مانگنی شروع کر دی۔ اس مالی بحران کی پیش گوئیاں کی جا چکی تھیں لیکن میں نے اس سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی چنانچہ جب یہ بحران آیا تو معاملات میرے ہاتھ سے نکل گئے اور میں دیوالیہ ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے کمپنی میں کچھ تبدیلیاں کیں۔ میں نے وہ تمام سینئر سٹاف بھی نکال دیا جو غیرضروری تھا۔ ان اقدامات کے کچھ عرصہ بعد ہی کمپنی دوبارہ منافع میں آ گئی۔“