چین کی پاکستان میں ووکیشنل یونیورسٹی کے قیام کی پیشکش

بیجنگ/اسلام آباد/راولپنڈی(نمائندہ کریئر کاروان)پاکستان کی آبادی 20 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور تمام لوگوں کو وائٹ کالر ملازمتیں نہیں مل سکتیں اور اس وقت سی پیک کے تحت پاکستان میں سڑکوں اور مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں کے لئے ہنر مند افرادی قوت ضروری ہے۔اس لیے چین کے سینٹ فیولن گروپ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ہونے والے مختلف منصوبوں کے لئے ہنرمند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی ضروریات سے نمٹنے کے لئے پاکستان میں ووکیشنل یونیورسٹی کے قیام کی پیشکش کی ہے۔
 سینٹ فیولن گروپ کی سی پی او سکارلٹ نے بیجنگ میںخبررساں ایجنسی ”اے پی پی“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت اس بارے میں ہمارا پاکستان کے متعلقہ حکام اور بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے سے گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ مثبت ردعمل اور تعاون ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ووکیشنل تعلیم کے حوالے سے چین دنیا میں سرفہرست ہے حتیٰ کہ بعض شعبوں میں چین جرمنی اور جاپان سے بھی بہت آگے ہے، ہم پاکستانی طلبہ کو ان کے ملک میں معیاری تربیت فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں بہت اچھی یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے موجود ہیں تاہم اس کے باوجود ملک میں مزید پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں کا قیام ضروری ہے تاکہ مینوفیکچرنگ شعبے کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینٹ فیولن گروپ نے پاکستان میں اپنا مستقل دفتر بنا لیا ہے، ہم چین کی وزارت تعلیم کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد سینٹ فیولن کا دو رکنی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا، پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں اس پر مزید گفت و شنید ہو گی، ہم گزشتہ چالیس برسوں میں چین میں حاصل شدہ تجربات میں پاکستان کو شریک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا گروپ پاکستان میں پانی کی صفائی اور سی این جی مشینری اور آلات لانے میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم تربیتی آلات اور مشینری بھی عطیہ کرنا چاہتے ہیں، ہمیں امید ہے کہ پاکستانی ادارے مثبت ردعمل کا اظہار کریں گے۔