کسی یونیورسٹی کو خیرات اکٹھی کرکے نظام چلانے کے لئے نہیں کہا گیا، پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ اکرم

کسی یونیورسٹی کو خیرات اکٹھی کرکے نظام چلانے کے لئے نہیں کہا گیا، پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ اکرم
اسلام آباد (کرئیر کاروان) قومی اسمبلی کو حکومت کی طرف سے یقین دلایا گیا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں 50 فیصد کٹوتی کرنے کی اطلاعات درست نہیں ہیں‘ آئندہ بجٹ میں بھی اس کے لئے پہلے سے زیادہ رقم مختص کی جائے گی‘ کسی یونیورسٹی کو خیرات اکٹھی کرکے نظام چلانے کے لئے نہیں کہا گیا- منگل کو قومی اسمبلی میں مریم اورنگزیب کے وفاقی حکومت کی جانب سے ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں کمی کرنے کے حوالے سے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ اکرم نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی ایسی اطلاعات ہیں کہ 51 فیصد ہائیر ایجوکیشن کا بجٹ کم کیا جارہا ہے۔
یہ بات درست نہیں ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 2018-19ء کے بجٹ میں اس سلسلے میں مختص رقم کا 90 فیصد ادا ہو چکا ہے۔
 
 
باقی رقم بھی ادا کی جارہی ہے۔ ڈویلپمنٹ بجٹ میں 4.8 ارب کے شارٹ فال کے حوالے سے حکومت غور کر رہی ہے کہ اس کو کیسے پورا کیا جائے۔ توجہ مبذول نوٹس پر مریم اورنگزیب ‘ شازہ فاطمہ خواجہ کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ اکرم نے کہا کہ کسی یونیورسٹی کو خیرات اکٹھی کرکے نظام چلانے کے لئے نہیں کہا گیا۔
 
یہ اطلاع درست نہیں ہے۔ گزشتہ سال ہائیر ایجوکیشن کے لئے جو بجٹ مختص تھا آئندہ سال اس سے زیادہ رقم مختص کی جائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں کا شارٹ فال جمع ہوکر 4.8 ارب تک پہنچ گیا ہے۔ موجودہ حکومت 2018-19ء میں ہائیر ایجوکیشن کے لئے مختص بجٹ کی طرح آئندہ مالی سال کے لئے بغیر کسی کمی کے بجٹ مختص کرے گی۔