گورنرپنجاب نے کیا بات کی۔۔کہ طلبہ کے ہنسنے پر انھیں خاموش کرانا پڑا

 گیریژن یونیورسٹی کے کانووکیشن میںگورنرپنجاب چودھری سرور کہنا تھا کہ 4سال بعددوبارہ گورنربناہوں۔کانووکیشن کاطریقہ سٹاف سے پوچھناپڑا،کانووکیشن کیپ مجھ سے کبھی پہنی نہیں جاتی،کانووکیشن میں آتے ہوئے سب سے بڑامسئلہ یہ ٹوپی پہنناہے۔ یادرہے کہ گورنر پنجاب کے سرپر بال بھی نہیں ہیں۔گورنرپنجاب چودھری سرورکی اس بات پر تما م طلبہ ہنس پڑے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں جس پر انتظامیہ کی جانب سے طلبا کو

 خاموش کرادیا گیا۔
 اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے لاہور میں گیرثرن یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ،” طلبہ پاکستان میں اور پاکستان سے باہر جا کر ملک کا نام روشن کر رہے ہیں،ہماری بد قسمتی سے پاکستان میں بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر ہے،یہاں ڈگری یافتہ لوگ محنت مزدوری کرنے میں عار سمجھتے ہیں، انسان اگر نیچے سے محنت کر کے آگے جائے تو وہ ترقی کرتا ہے۔“
 
ان کا مزیدکہنا تھا کہ ہمارے ملک کی خواتین ہر میدان میں مردوں کو پیچھے چھوڑ رہی ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ اگر خواتین اسی طرح ترقی کرتی رہیں تو مستقبل میں مردوں کے لیے کوٹے مختص کرنے پڑ جائیں گے اور اگر ملک میں خواتین کی حکومت آگئی تو وہ مردوں سے اچھی کارکردگی دکھائیں گی۔زندگی میں کامیابی کے لئے والدین کی دعائیں ضروری ہیں اور طلبہ آج جو کچھ بھی ہیں وہ اپنے والدین کی وجہ سے ہیں۔