ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 33 ویں اجلاس کے اہم فیصلے کون سے؟

اسلام آباد(نمائندہ کریئر کاروان سے) گزشتہ روزملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے کمیشن کے 32 ماہ کی تاخیر سے ہونے والے 33 ویں اجلاس میں انتظامی اور مالیاتی اہم فیصلے کئے گئے۔ہفتہ کو اسلام آباد میںایچ ای سی کے آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین ہایئر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر طارق بنوری نے کمیشن کے 33 ویں اجلاس میں اب تک کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی فیصلوں میں گورنمنٹ رولز، افسران کی استعداد کار میں اضافہ، پروفیسرز ٹریننگ کے پروگراموں، کنسلٹنٹس کی خدمات کے حصول اور ادائیگیوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بیشتر اقدامات کی منظوری دیدی گئی۔ملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے کمیشن کے 32 ماہ کی تاخیر سے ہونے والے 33 ویں اجلاس میں انتظامی اور مالیاتی اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔ کمیشن نے یونیورسٹی کو فنڈز دینے کے فارمولے پر نظرثانی اور فنانشنل رولز کی منظوری دے دی ہے۔چربہ سازی سے متعلق کیسز کو جلد نبٹا دیا جائے گا۔
کمیشن نے مالیاتی قواعد کی بھی منظوری دی ہے اور یونیورسٹیوں کی فنڈنگ کے فارمولے کو ازسر نو تشکیل دیا گیا ہے جس میں 20 فیصد فنڈنگ کم ترقی یافتہ علاقوں اور 20 فیصد کارکردگی کی بنیاد پر فنڈنگ کی جائے گی۔ اس فارمولہ کو حتمی شکل دینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو فنڈز ابھی تک استعمال ہوئے ان کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی یونیورسٹیوں کے بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے سے متعلق قواعد جو 2003ءمیں تشکیل دیئے گئے تھے۔
ان میں بہت سی تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے تحت تین کیٹٹیگریوں میں سے یونیورسٹیوں کو منقسم کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک وہ ہیں جو پاکستان میں اپنے کیمپس قائم کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی ان یونیورسٹیوں کو وہ تمام سہولتیں فراہم کرے گی جو ملکی یونیورسٹیوں کو دی جاتی ہیں لیکن یہ یونیورسٹیاں ایچ ای سی کے قوانین پر عمل کریں گی۔ ایسی یونیورسٹیوں کو وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ سے منظوری لینا ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ جو ملکی یونیورسٹیاں دیگر ممالک میں اپنے کیمپس قائم کرنا چاہتی ہیں ان کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی اور فیکلٹی اراکین کی تربیت، تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے یونیورسٹیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے آئی سی ٹی پروگرام کی بھی تعریف کی ہے۔ اس پروگرام کی توثیق کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جامع پالیسی پر مبنی کتاب مرتب کی گئی ہے جسے کمیشن نے خوب سراہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی تحقیق کے ئے فنڈنگ کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ معذور طلباءکی سہولت کے لئے بھی فریم ورک پالیسی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت تمام یونیورسٹیوں میں ایسے طلباءکو تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کئے جائیں گے جبکہ اساتذہ کی تربیت کے لئے بھی پالیسی فریم ورک کو اختیار کیا جائے گا۔ ڈاکٹر طارق بنوری نے کہا کہ ڈگریوں کی تصدیق کے طریقہ کار کو بھی سہل اور آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی کو دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے جبکہ یونیورسٹیوں میں اجازت پروگرام کے حوالے سے کمیشن کے قواعد میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی اور ایسے پروگراموں میں طلباءکی ڈگریاں تصدیق نہیں ہوں گی اور بلا اجازت پروگرام کرنے والی یونیورسٹی طلباءکو 3 گناہ فیس واپس کرنے کی پابند ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ویب ٹی وی چینل کو ایچ ای سی ٹیلی ویڑن سنٹر میں تبدیل کررہے ہیں۔جتنے تعلیمی پروگرام اور تحقیقی کام ہیں انہیں اس چینل کے ذریعے شائع کیا جائے گا جبکہ چیئرمین ایچ ای سی ہر ماہ سوالات کے جواب چینل پروگرام پر آکر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تمام کام کو شفاف بنانے اور خود احتسابی سسٹم متعارف کرانے کیلئے پر عزم ہیں جس کیلئے کمیشن نے پالیسی گائیڈ لائن کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ چربہ سازی کی روک تھام کیلئے پالیسی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں جس کا فیصلہ جلد کرلیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کیلئے 10 ارب کم از کم فنڈ موجودہ وسائل میں ہونا چاہیے اس میں کمی نہیں ہونی چاہیے۔اس کیلئے لیبارٹریوں کے قیام،تحقیق اور بزنس سنٹرز کے قیام کیلئے بھی یونیورسٹیوں کو تعاون کررہے ہیں۔