ہمت ِ مرداں

نوخیزیاں /گل نوخیزاختر
ہمت ِ مرداں
خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ……بالآخر وہ وقت آہی گیا جس کا برسوں سے انتظار تھا۔ لاہور میں مردوں کے حق میں بھی خفیہ ریلی نکل آئی۔ خفیہ اس لیے کہ فیس بک پر اعلان کیا گیا تھا کہ لبرٹی چوک میں اتوار کی شام چار بجے عورتوں کے ستائے مرد اکٹھے ہوں گے تاہم میری معلومات کے مطابق وہاں مرد تو کافی سارے نظر آئے لیکن فیملی کے ساتھ۔یہ بھی اطلاع ہے کہ ریلی نکالی گئی لیکن ایک پانچ مرلے کے گھر کے ڈرائنگ روم میں۔ کوئی بات نہیں، بڑی تحریکوں کا آغاز ایسے ہی ہوتا ہے۔اِس Female Oriented سوسائٹی میں ایسے باہمت مرد قابل تعریف ہیں جنہوں نے بیویوں کے خوف سے بالاتر ہوکراپنی آزادی کے لیے ریلی نکالی۔میں ریلی میں شریک چھ سات دوستوں کو جنرل ہسپتال کے آرتھوپیڈک وارڈ میں پھول پیش کرکے آیا ہوں۔ایک دو دوست ہسپتال میں نظر نہیں آئے۔ممکن ہے خالق حقیقی سے جاملے ہوں۔ سٹین لیس سٹیل کے برتن کی چوٹ بہت ظالم ہوتی ہے۔ اللہ ان کی قربانی قبول فرمائے۔کیسی عجیب بات ہے کہ خواتین کی ریلی نکلتی ہے تو اُس میں مرد بھی شریک ہوتے ہیں، لیکن مردوں کی آزادی کے لیے نکالی گئی ریلی میں کوئی خاتون نہیں تھی۔ کاش میں بھی ریلی میں شریک ہوسکتا لیکن کچھ گھریلو مصروفیات کی وجہ سے نہیں آسکا، پتا نہیں یہ کپڑے دھونے والی ماسیاں اتوار کو کیوں چھٹی کرلیتی ہیں۔ریلی کے اختتام پر میں نے کئی دوستوں کو فون کرکے مبارک باد دی لیکن شدید حیرانی ہوئی کہ انہوں نے فون تو اٹینڈ کیا لیکن آگے سے کچھ بولے نہیں، صرف اوں آں کی آواز ہی آتی رہی۔شائد ریلی میں نعرے لگا لگا کر ان کے جبڑے دُکھ رہے ہوں گے۔اب جبکہ مردانہ آزادی کی لہر کا آغاز ہوگیا ہے تو میں تمام مردوں سے گذارش کروں گا کہ پیچھے مت ہٹیں۔ہمیں ہرحال میں عورتوں کے برابر حقوق لینا ہوں گے۔ہمیں بھی اپنے لیے این جی اوز سے مدد طلب کرنا ہوگی۔ہمیں دُنیا کو بتانا ہوگا کہ جب ہم بیوی کے لیے کوئی کھانے کی چیز لاتے ہیں تو وہ ہمیں کہتی ہے جاؤ اپنی ماں کو کھلاؤ، اور ماں کے پاس جاتے ہیں تو وہ بھی یہی کہتی ہے۔رشتہ داروں کے سامنے بیوی کی تعریف کریں تو بعد میں طعنہ ملتا ہے کہ کیوں میری جھوٹی تعریفیں کرتے ہو۔ اور اگر سچ بول دیں تو ساری رات یہی ٹیپ سننے کو ملتی ہے کہ تمہیں تو دوسروں کے سامنے میری انسلٹ کرنے میں مزا آتاہے۔ہم جس دن سے پیدا ہوئے ہیں الحمد للہ تب سے ہی کھانا کھا رہے ہیں لیکن بیوی کے سامنے جب بھی کھانا کھانے بیٹھتے ہیں وہ گھور کر آگاہ کرتی ہے کہ ’جتنے چاول کھانے ہیں اُتنے پر ہی رائتہ ڈالنا‘۔ہم اے ٹی ایم سے پیسے نکلوائیں تو احتیاطاً رسید وہیں پھاڑ کر پھینک آتے ہیں اس کے باوجود بیویوں کو پتا چل جاتا ہے کہ اکاوئنٹ میں باقی کتنی رقم پڑی ہے۔ہم مرد ہر وقت بیویوں کے شک کی زد میں رہتے ہیں۔کیا کسی بیوی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کا موبائل دیکھے اور پھر پوچھے کہ ’یہ برکت ویلڈنگ والا تمہیں کیوں میسج کر رہا ہے کہ کل نیلے رنگ کی ٹائی پہن کر آنا۔‘ حد ہوگئی ہے……بھئی برکت ویلڈنگ والا بھی حس جمالیات رکھتا ہے، اُسے نیلی ٹائی اچھی لگی ہوگی، اس میں اتنا کرید کرید کرپوچھنے والی کیا بات ہے۔میرے اختیار میں ہو تو میں مردانہ حقوق کی جنگ لڑنے والے تمام گمنام سپاہیوں کو سیلوٹ کروں۔یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارا مستقبل تابناک بنانے کے لیے اپنے ہاتھ، پیر اوردانتوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔مجھے یقین ہے یہ مردانہ ریلی بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگی۔ عنقریب عشاق کے اور قافلے بھی نکلیں گے۔نکلنا بھی چاہیے۔ کب تک ہم کولہو کے بکرے بنے رہیں گے۔ہمارا کام صرف پیسے کماناکیوں ہے۔صبح سے شام تک گھر چلانے کے لیے رقم کا بندوبست بھی ہم ہی کریں اور گھر آتے ہی برستی بارش میں آدھا کلو موٹا لہسن بھی ہم ہی لینے جائیں۔ٹی وی ہم خریدیں، کیبل کے پیسے ہم دیں اور ریموٹ بیویوں کے ہاتھ میں رہے۔ اس کے باوجود بیویاں رات آٹھ بجے ہی اناؤنسمنٹ شروع کردیں کہ سر میں شدید درد ہورہی ہے۔تمام مردوں سے گذارش ہے کہ ’حقوقِ مرداں‘ کے سلسلے میں باقاعدہ رجسٹریشن کا آغاز کریں، مرہم پٹی کے لیے فنڈز میں بڑھ چڑھ کر عطیات دیں کہ یہی چراغ جلیں گے تو اجالا ہوگا۔ لیکن پلیز اس کی تشہیر سے گریز کریں، یہ سارا کام ’چپ چپیتے‘ ہونا چاہیے کیونکہ کئی مرد بھائی اس تحریک کے لیے عملی طور پر شائد حوصلہ نہ کرپائیں، ویسے بھی وہیل چیئرز کے ریٹ خاصے بڑھ گئے ہیں۔ہمیں ہر کام ایسے کرنا ہوگا کہ کسی بیوی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔میں نے بھی اخبار والوں سے بھی گذارش کی ہے کہ پلیزیہ کالم خفیہ طور پر شائع فرمائیں۔کئی دوستوں کا اصرار ہے کہ ہمیں اپنی مہم میں اس بات پر بھی زور دینا چاہیے کہ جب خواتین بس کی اگلی سیٹوں پر کسی مرد کو نہیں بیٹھنے دیتیں تو ہم کیوں پچھلی سیٹوں پر کسی خاتون کو براجمان ہونے دیں۔نیز اگر بیویوں کی ذمہ داری بچے پالنا یا گھر سنبھالنا نہیں تو بتایا جائے کہ ان کی کیا ذمہ داری ہے کیونکہ اکثر بیویاں ذمہ داری کو ’زمینداری‘ سمجھتی ہیں۔ریلی کے اختتام پرایک دوست نے پرجوش انداز میں مجھے کال کرکے بتایا کہ جب وہ مردوں کے حق میں زورزور سے نعرے لگا رہے تھے تو عین اسی دوران ان کی بیگم کا فون آیا اور سخت غصے میں کہنے لگیں کہ ابھی گھر واپس آؤ ورنہ بہت برا ہوگا۔ لیکن انہوں نے ’ہونہہ‘ کہہ کر فون کاٹ دیا۔اللہ جانتا ہے پہلے تو مجھے ان کی بات کا بالکل بھی یقین نہیں آیا کیونکہ اس سے پہلے میں دیکھ چکا تھا کہ وہ بیگم سے اتنا ڈرتے ہیں کہ دروازے کی نیم پلیٹ پر بھی لکھوا رکھا ہے’یہ شکیلہ کا گھر ہے‘۔لیکن شدید حیرت تھی کہ انہوں نے مردانہ ریلی میں نہ صرف شرکت کی بلکہ بیگم کا فون کاٹنے کا عظیم کارنامہ بھی سرانجام دیا۔ میرا خیال تھا کہ وہ اپنی اس ہمت پر بہت پچھتا رہے ہوں گے یا بیگم کے خوف سے انتہائی سہمے ہوئے ہوں گے لیکن نہیں ……اُن کی پیشانی پر کسی گھبراہٹ یا پریشانی کا نشان تک نہیں تھا۔میں نے خود دیکھا کہ وہ بھرپور سکون کی کیفیت میں آنکھیں موندے ہوئے تھے اور چہرے پرایک عجیب سا تبسم تھا۔