برطانوی یونیورسٹیز کریک ڈاﺅن

روزنامہ جنگ کی مطابق تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برٹش یونیورسٹیز اپنی بین الاقوامی پوزیشنز کے بارے میں مبالغہ آمیز دعوے کر رہی ہیں حالانکہ ایک تشہیری ریگولیٹر کی جانب سے کریک ڈاﺅن بھی کیا جا چکا ہے جس کا مقصد عالمی رینکنگ
 

اور سالانہ نتائج کے بارے میں غلط بیانیوں کو روکنا تھا۔ گارڈین کے مطابق ” وچ“ یونیورسٹی کو پتہ چلا ہے کہ متعدد تعلیمی ادارے گلوبل لیگ ٹیبلز میں اپنی پوزیشنزکے بارے میں مستقل طور پر غلط بیانی پر مبنی بیانات جاری کر رہے ہیں۔اونچی بین لاقوامی پوزیشن کے مسلسل دعوے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ یونیورسٹیز اپنے مقامی اور بین الاقوامی طالب علموں کی بھرتیوں میں کمی بشمول گلوبل رینکنگ میں کمی کے اثرات کا سامنا کر رہی ہیں۔وچ یونیورسٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر ایلیکس ہیمین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طالب علم ان حقائق پر اعتماد کر سکتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے ترقی پا رہے ہیں۔ مگر ہم کو ایسی متعدد مثالیں ملی ہیں کہ متعدد یونیورسٹیز نتائج میں پیچھے ہیں۔ وچ کو پتہ چلا ہے کہ نیو کیسل یونیورسٹی نے ” اہم حقائق“ کے نام سے ایک دستاویز بنائی ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ میں ٹاپ 1فیصد میں شامل ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ 1000تعلیمی اداروں میں سے 141 ویں پوزیشن پر ہے۔وچ کی جانب سے رابطہ کرنے پر نیو کیسل نے یہ دعویٰ ہٹا لیا۔ ایبرڈین یونیورسٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ وہ مستقل طور پر دنیا کی اہم یونیورسٹیوں میں شامل ہے مگر وچ کا کہنا ہے کہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔واضح رہے کہ گلوبل لیگ ٹیبلز میں روائتی طور پر 1000تعلیمی اداروں کے نام دیئے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں 2500 اعلیٰ تعلیمی اداروں کو رینک نہیں ملتا۔السٹر یونیورسٹی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ دنیا کی ٹاپ 3 فیصد یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جبکہ لیگ ٹیبل پر اس کی پوزیشن 600 ویں سے بھی کم ہے۔