پنجاب یونیورسٹی میں”مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی“ کے عنوان سے سیمینار

پنجاب یونیورسٹی کالج آف ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز اور ادارہ برائے جمہوری تعلیم اینڈ ایڈوکیسی (آیڈیا)کے زیر اہتمام ” مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی “ منعقد کیا گیا۔ سیمینار سے معروف شاعر امجد اسلام امجد، معروف سکالر سید بلال قطب، معروف صحافی اور اینکرپرسن حبیب اکرم ،معروف کالم نگار وتجزیہ کار سلمان عابد ،ڈاکٹر ساجد رشید اور ایم پی اے سعدیہ سہیل نے خطاب کیا۔
معروف سکالر سید بلال قطب نے کہا ،” ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اگر اس معاشرے سے انتہا پسندی ختم نہیں ہوگی اور ہم نئی نسل میں ایک مکالمہ اور رواداری کا کلچر فروغ نہیں دیں گے تو یہ معاشرہ مہذہب معاشرہ نہیں بن سکے گا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں انتہا پسندی کیخلاف اپنے تعلیمی اداروں کو بنیاد بنا کر ایک بڑی جنگ رواداری پر مبنی معاشرے کیلئے لڑنی ہوگی اور اس میں نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کا کلیدی کردار ہوگا“
ڈاکٹر ساجد رشید اور سلمان عابد کا کہنا ،” ہماری جامعات ، اساتذہ اور بالخصوص یونیورسٹیوں کی سطح پر موجود نوجوانوں کی مختلف سوسائٹیاں تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی کے خاتمہ میں غیر نصابی اور مختلف سماجی او رکلچرل سرگرمیوں کی مدد سے نئی نسل میں مثبت سرگرمیو ں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں“
شاعر امجد اسلام امجد نے کہا ،” اس وقت پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی ہماری ریاست کیلئے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے جن میں یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں وہ نئی نسل میں انتہا پسندی کیخلاف اور رواداری کے حق میں ایک نئے بیانیہ کی تیار ی میں اپنا موثر کردارکریں کیونکہ یہ جامعات کا کردار بنتا ہے کہ وہ معاشرے میں ایک متبادل بیانیہ فراہم کرکے لوگوں میں نئی سوچ اور فکر کو اجاگر کریںکیونکہ ہمیں امن اور رواداری کے ساتھ آگے بڑھنا ہے “
معروف صحافی اور اینکرپرسن حبیب اکرم نے کہا،” مذہبی انتہا پسندی ریاست کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس چیلنج سے نمٹنا کوئی آسان کام نہیں ، اس کیلئے حکومتی اور ریاستی سطح پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا، بالخصوص حکومتی سطح پر ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جس میں نئی نسل کو شامل کرکے اس جنگ میں ان کے کردا رکو بھی نمایاں کیا جائے اور اس میں میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے اور یہ کام نئی نسل زیادہ بہتر انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے“
ایم پی اے سعدیہ سہیل نے کہا،” انتہا پسندی کے خاتمہ میں نوجوان لڑکیوں کا اہم کردار ہے اور اگر وہ اس انتہا پسندی کیخلاف اپنی اپنی سطح پر منظم ہوکر کام کریں اور تعلیمی ادارے نئی نسل کی سرگرمیوں کی سرپرستی کریں تو یہ ہی لڑکیاں امن کے فروغ میں ایک سفیر کا کردا رادا کرسکتی ہیں ،کیونکہ اس وقت انتہا پسندی کا سب سے زیادہ نقصان عورتوں اور لڑکیوں کی زندگیوں پر منفی انداز میں پڑتا ہے“
 معزز مہمانوں نے طلبہ و طالبات کے سوالوں جوابا ت بھی دیئے ، تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے مہمان گرامی میں شیلڈ تقسیم کیں۔