2030ءتک لندن کی یونیورسٹیوں میں کیا تبدیلی واقع ہوگی؟

برطانیہ میں سکولوں میں بڑھتی ہوئی نسلی اقلیتوں کے تناسب اورسیاہ فام اور ایشیائی ملکوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی بڑی تعداد لندن کی یونیورسٹیوں میں داخلے کیلئے درخواست دیتے ہیں کیونکہ لندن میں تنوع اوراختلاف رنگ معمول کی بات ہے،اس لیے موجودہ شواہد 

کی بنیاد پرماہرین کے مطابق 2030ءتک لندن کی یونیورسٹیوں میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہونے کی توقع ہے اور ان طلبہ کے تنوع اور اختلاف رنگ میں اضافہ ہونے اور کم وبیش75 فیصد طلبہ غیر سفید فام ہوں گے۔
ماہرین نے دعویٰ کیاہے کہ2030ءتک لندن کی یونیورسٹیوں میں75 فیصد طلبہ کاتعلق نسلی اقلیتوں سے ہوگا یہ تجزیہ ڈیموگرافک پیدائش واموات سے متعلق اعدادوشمار میں ہونے والی تبدیلیوں اوریونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح کی بنیاد پر کیاگیاہے۔تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلے عشرے کے دوران یونیورسٹیوں میں سفید فام طلبہ کی شرح موجودہ37فیصد سے کم ہوکر27 فیصد رہ جائے گی۔ سفید فام طلبہ اب بھی سب سے بڑا نسلی گروپ ہے جبکہ دوسرے نمبر افریقی طلبہ ہیں جن کی شرح 17فیصد سے بڑھ کر 21فیصد ہوچکی ہے۔ یونیورسٹی تک رسائی سے متعلق گروپ کاکہناہے کہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ حاصل کرنے والے 20فیصد طلبہ کاتعلق شہروں سے ہوتاہے۔