چوہوں کی بستی

انسان صرف شادی کے بعد شیر سے چوہا نہیں ہوتا بلکہ کئی اور مواقع پر بھی اس کی ’’جوں‘‘ تبدیل ہو جاتی ہے۔ مثلاً میں نے دیکھا ہے کہ حزبِ اختلاف میں ہر شخص شیر ہوتا ہے، وہ حکومت کو للکارتا ہے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر ’’تبریٰ‘‘ بھیجتا ہے، امریکہ کو دھمکیاں دیتا ہے، بھارت کو کہتا ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرے ورنہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی لیکن جب یہ شیر اقتدار میں آتا ہے تو اگلے ہی روز چوہا بن جاتا ہے اور فوری طور پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سامنے قلم دوات لیکر بیٹھ جاتا ہے اور ڈکٹیشن لینا شروع کر دیتا ہے۔
 
امریکہ کی خوشامد کرنے لگتا ہے، سپر پاور تو پھر سپر پاور ہے وہ بھارت کے سامنے گھگھیانے کے درمیان ایک آدھ بڑھک بھی لگا دیتا ہے اور یوں ایک آدھ دفعہ شیر مگر اس کے بعد اسے چوہا بنتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ اس چوہے کی شامت تو اس وقت آتی ہے جب وہ شراب کے ڈرم میں غوطہ لگانے کے بعد اپنی دم پر کھڑا ہو جاتا ہے اور جھومتا ہوا کہتا ہے ’’بلی کہاں ہے؟‘‘ بلی کیساتھ اسکی باقی باتیں بلی کے پیٹ ہی میں ہوتی ہیں۔
 
اشرف المخلوقات انسان کو چوہا بنانے والی اصل چیز اس کی خواہشات ہیں۔ انسان ایک فریج، ایک کلر ٹی وی کیلئے چوہا بن جاتا ہے۔ ایم این اے یا ایم پی اے تو چھوڑیں، وہ بلدیاتی نظام میں کونسلر بننے کیلئے چوہا بن جاتا ہے اور یہ سب کچھ حاصل کرنے کے بعد وہ زندگی یہ سوچ کر گزارتا ہے کہ اب وہ انسان نہیں چوہا بن چکا ہے۔
 
گزشتہ روز ایک چوہے سے میری بات ہوئی، اسے اپنے چوہا بننے پر کوئی شرمساری نہ تھی۔ سابقہ انسان اور موجودہ چوہے کا کہنا تھا کہ ہوس کے نظام کی وجہ سے پاکستان کی کثیر آبادی چوہوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ انکی شکلیں تبدیل ہو رہی ہیں، ان کے پاسپورٹ تبدیل ہو رہے ہیں، ان کی شناخت تبدیل ہو رہی ہے چنانچہ چوہوں کی بستی میں جو چند انسان رہ جائیں گے ان کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا لہٰذا جتنی جلدی ممکن ہو چوہا بن جائو۔
 
میں نے اس سادہ لوح اور تازہ تازہ چوہے کے جون میں آئے ہوئے سابق انسان کو مخاطب کیا اور ہنستے ہوئے کہا ’’تم بھی بہت بھولے ہو، تم سمجھتے ہو میں ابھی چوہا نہیں بنا۔ برخوردار میں بہت سینئر چوہا ہوں، صرف میڈیا کے زور پر انسان کہلاتا ہوں۔ اگر یقین نہیں آتا تو میری تحریریں غور سے پڑھا کرو، تمہیں ان میں ہمیشہ ایک چوہا رینگتا ہوا نظر آئے گا۔میرے جیسے اور بھی بہت سے چوہے ہیں، جن کے کالموں اور ٹی وی پر تجزیوں کے دوران ان کے اندر کا چوہا پھدک کر باہر آ جاتا ہے۔
 
دوست سے دورانِ گفتگو میں نے اپنے فون میں یوٹیوب آن کی اور دوست سے کہا تمہاری تصدیق کیلئے میں تمہیں ایک نہیں بے شمار چوہے دکھاتا ہوں۔ ان میں سے بے شمار چوہے ایسے تھے جنہوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا، یہ سب بھاری رقوم کے عوض گالی گلوچ میں مشغول تھے اور ان کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں سامع چوہے موجود تھے، جو ان کی ہر واہیات بات پر نعرہ زنی کرتے تھے جس پر ان کے زورِ بیان میں مزید اضافہ ہو جاتا تھا۔ پھر میں نے اسے سیاسی چوہے دکھائے جو اختلاف کرنے والوں سے گالم گلوچ میں مشغول تھے۔ میں نے دوست سے کہا تم نے تو ابھی یہ کہا تھا کہ معاشرے میں چوہے بہت ہیں، میں تمہیں ان کی شکلیں بھی دکھانا چاہتا ہوں۔ میں اسے اپنے ساتھ ایک شاپنگ سنٹر لے گیا، وہاں اکثر دکانوں میں چوہے بیٹھے تھے جو سو روپے کی چیز ایک ہزار میں بیچ رہے تھے۔ میں اسے ایک عدالت میں لے گیا، وہاں بھی چوہوں کی بھرمار تھی۔ پھر میں نے اسے ایک سیاستدان سے ملایا، اس نے مجھ سے چھوٹتے ہی پوچھا یہ حکومت کمزور ہو گئی ہے، آپ کے خیال میں اس کی جگہ کون سی پارٹی لے گی؟ میں نے کہا آپ تو اس حکومت میں بہت اچھی پوزیشن پر فائز ہیں، آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ بولے ’’میں نے حکومت کو اشٹام لکھ کر نہیں دیا ہوا کہ ساری عمر تمہارے ہی ساتھ رہوں گا، اگلی حکومت کیلئے بھی تو ابھی سے جگہ بنانا چاہئے‘‘۔ میں نے جواب دیا برادر مجھے کچھ علم نہیں، آپ کو اگر کوئی خبر ہے تو سب سے پہلے مجھے بتائیے گا، میں بھی آپ ہی کی طرح کا انسان ہوں۔ میں نے اسے انسان کہا، چوہا کہتا تو ناراض ہو جاتا ۔
 
اس ساری مشق کے بعد میں اور میرا دوست ایک چائے خانہ پر جا بیٹھے۔ دوست نے کہا یار یہ تو بہت پریشان کن صورتحال ہے۔ یہاں تو ہر کوئی چوہا بننے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ ملک کا کیا بنے گا؟ میں اپنے اس چوہے دوست کی بات پر کھل کر ہنسا اور اس پر وہ ناراض ہو گیا اور پوچھا کہ تم کیوں ہنسے؟
 
میں نے کہا ’’تم جانتے ہو، تم ایک چوہے ہو، میں بھی جانتا ہوں کہ میں ایک چوہا ہوں، یوٹیوب پر میں نے تمہیں جو بظاہر انسانی چہرے دکھائے وہ بھی اندر سے چوہے تھے۔ ان کے ہزاروں سامعین بھی چوہوں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ عدالت کے اہلکار بھی چوہے ہی تھے، یہ سب چوہے اور ان کے علاوہ خود میں اور تم بھی جب اکٹھے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے یہی پوچھتے ہیں کہ ملک میں انسان کم اور چوہے زیادہ ہو گئے ہیں، ملک کا کیا بنے گا؟‘‘
 
اس پر دوست نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو مگر میرے سوال کا جواب تو درمیان ہی میں رہ گیا۔
 
میں نے جواب دیا ’’اس کا جواب یہ ہے کہ میں اور تم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے آئندہ چوہا نہیں بننا۔اس کے بعد اپنے اپنے حلقے میں لوگوں کو چوہا بننے سے روکیں گے اور انہیں کہیں گے کہ اگر تمہیں واقعی پاکستان سے محبت ہے تو خدا کیلئے انسان بن جائو، اس مشن کی تکمیل میں وقت تو لگے گا مگر کامیابی کی صورت میں میرے اور تمہارے بچے سکون کی زندگی بسر کر سکیں گے‘‘۔ میں نے یہ بات مکمل کرنے کے بعد دوست کی طرف دیکھا تو وہاں ایک چوہا بیٹھا مجھے گھور کر دیکھ رہا تھا۔