تعلیمی اداروں تو بند مگر ڈیلی ویجرز کیا کریں

لاہور( ) کورونا وائرس کے  بعد تعلیمی اداروں  میں تو چھٹی دے دی گئی مگر ڈیلی ویجرز کے حوالے سے کوئی پالیسی جاری کی ۔ اداروں نے ڈیلی ویجرز  کو دو ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں گی ۔سینکڑوں ڈیلی ویجرز دو ماہ کے لیے تنخواہ سے محروم ہوجائیں گے ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی غفلت سے ڈیلی ویجرز کے گھروں کے چولہے بجھنے لگیں ہیں ۔  حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کو تو بند کردیا گیا ہے ۔  مگر ڈیلی ویجرز کے حوالے سے کوئی پالیسی نہ دی گئی۔ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے  کچھ اداروں نے ڈیلی ویجرز کو جواب دے دیا کے اگلے دو ماہ کے لیے تنخواہیں نہیں دی جائیں گی جبکہ کچھ اداروں نے اس  پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  سے تجویز مانگی ہے ۔ شہر کے اکثر کالجز میں  ڈیلی ویجرز کو اس ماہ کی تنخواہ دینے کے بعد اگلے دو ماہ  کی سیلری کے حوالے سے جواب دے دیا گیا ہے ۔ شہر کی کچھ جامعات نے اس حوالےسے اپنے طور پر پالیسی بنا کر ڈیلی ویجرز کو ایڈجسٹ کرلیا ہے جبکہ کچھ نے اس حوالے سے پالیسی  پر مشاورت شروع کی ہے ۔  ڈیلی ویجرز کاکہنا ہے کہ دو ماہ وہ کہاں سے گزر بسر کریں گے ۔   اگر ان کو تنخواہیں نہ ملیں تو ان کے لیے گھر چلانا مشکل ہوجائے گا ۔ ہم کام کرنے کے لیے تیار ہیں ۔  حکومت ایک طرف تو غریب افراد کو راشن دے رہی ہے دوسری طرف ہمارے گھر کے چولہے بند کررہی ہے ۔ حکومت سے اپیل ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی اقدامات کرے ۔  جبکہ کالجز کے پرنسپلز کاکہنا ہے کہ  حکومت  کی جانب سے ڈیلی ویجرز کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں  دی گئیں اگر ہم ان کو تنخواہیں دے دیتے ہیں تو بعد میں اڈٹ کی جانب سے اعتراضات لگائے جائیں گے