پاکستان میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں پر نوازشات کیسے؟

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وفاقی سطح پر معاشی امور کی مشاورت کے لیے مشیروں کی کونسل کی منظوری دی ہے۔ 18 رُکنی اس کونسل میں گیارہ ممبران کا تعلق پرائیویٹ اداروں سے ہے۔

وفاقی حکومت نے دانستہ طور پر پاکستان بھر کی 114 سرکاری یونیورسٹیوں کے ماہرین معاشیات اور پروفیسرز کو نظر انداز کر کے مخصوص فنڈنگ سے چلنے والی یونیورسٹیوں کے نمائندوں اور پروفیسرز کو اکنامک ایڈوائزری کونسل کا رکن بنایا ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈین اینڈ ڈائریکٹر ڈاکٹر فرخ اقبال، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے پروفیسر آف اکنامکس ڈاکٹر اعجاز نبی، لاہور سکول آف اکنامکس سے پروفیسر آف اکنامکس ڈاکٹر نوید حامد کو مشیران کی کونسل میں شامل کیا گیا ہے۔

حکومت نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ڈی پی آئی ڈاکٹر عابد قیوم سلہری، پرنسٹن یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف اینڈ اکنامکس اینڈ ووڈ رو وسلن سکول آف پبلک پالیسی سے ڈاکٹر عاطف میاں، ہاورڈ کینیڈی سکول کے پروفیسر آف اکنامکس ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ اور یونیورسٹی کالج لندن سے ڈاکٹر عمران رسول کو اکنامک ایڈوائزری کونسل میں شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے مشیر برائے کامرس عبد الرزاق داؤد کا تعلق بھی لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز( لمز) سے ہے۔

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر محبوب حسین نے تعلیمی زاویہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک پالیسی کے تحت سرکاری یونیورسٹیوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو ترجیح اور فوقیت دی گئی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری بھی پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے مالکان اور اساتذہ سے کرائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر محبوب حسین نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری پالیسی میں سرکاری یونیورسٹیوں کی شمولیت اور نمائندگی نہ ہونا جبکہ ملک کی پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور امریکہ و برطانیہ کی یونیورسٹیوں کے نمائندوں کو اکنامک ایڈوائزری کونسل میں شامل کرنا واضح پیغام ہے کہ حکومت پرائیویٹائزیشن کا ایجنڈا لا رہی ہے۔

جامعہ کراچی کی انجمن اساتذہ کے سابق صدر ڈاکٹر شکیل فاروقی کا کہنا ہے کہ اصل یونیورسٹیاں سرکاری جامعات ہیں، سن دو ہزار کے بعد نمودار ہونے والی یونیورسٹیوں کو سرکاری یونیورسٹیوں پر ترجیح دینا غیر منصفانہ ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ یونیورسٹیاں صرف دو مضامین بزنس ایڈمنسٹریشن اور کمپیوٹر انجینئرنگ کی منصب بخش ڈگریاں کرا رہی ہیں جبکہ سرکاری یونیورسٹیوں میں اوسطا ساٹھ مضامین میں سماج کے متوسط گھرانے کے بچوں کو تعلیم دی جارہی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ جتنا ضروری بزنس ایڈمنسٹریشن کو پڑھنا ہے اُتنا اسلامی تاریخ کو پڑھنا بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹر شکیل فاروقی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان وفاقی و صوبائی سطح کی حکومت کو سپورٹ کر کے غیر ملکی ایجنڈا پاکستان میں نافذ کرنا چاہتی ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ و برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کے لیے سکالر شپ کے منصوبے ہیں اور طلباء کی فیسیں انہی منصوبوں سے ادا کی جاتی ہیں، حکومت کو سرکاری یونیورسٹیوں کی سرپرستی سے ہاتھ نہیں اُٹھانا چاہیے۔ ڈاکٹر شکیل فاروقی کے مطابق اکنامک ایڈوائزری کونسل میں سرکاری یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو نظر انداز کرنا حکومتی ایجنڈے کو واضح کر رہا ہے۔