نواز شریف کا جیل ٹرائل: نگراں حکومت کا فیصلے پر نظرثانی کا امکان

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی اڈیالہ جیل میں سماعت کا فیصلہ آج واپس لیے جانے کا امکان ہ نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک کی زیرصدارت وفاقی کا بینہ کا اجلاس آج ہوگا جس کے لیے 9 نکاتی ایجنڈا تیار کرلیا گیا ہے جب کہ ایجنڈے میں نواز شریف کے جیل ٹرائل سے متعلق وزارت قانون و انصاف کا نوٹی فکیشن واپس لینے کی منظوری بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ وزارت قانون و انصاف نے 13 جولائی کو العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کے جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا تاہم نگراں حکومت نے اب یہ نوٹی فکیشن واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت سے سزا ملنے کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ لندن سے وطن واپسی پر وزارت قانون و انصاف نے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جس کے مطابق نواز شریف کے خلاف دو نیب ریفرنسز کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی جانی تھی۔ نگران کابینہ کے اجلاس میں امن و امان کی صورت حال پر غور ہوگا اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ کابینہ کو ملک میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر بریفنگ دی جائے گی، کابینہ سپریم کورٹ کے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی منظوری بھی دے گی۔ اس کے علاوہ فاٹا اور پاٹا کو وفاقی ٹیکسز سے مستثنیٰ قرار دینے کی منظوری بھی دیے جانے کا امکان ہے۔