انگلینڈ میں اسکول کھول دئیے گئے۔۔۔۔حاضری انتہائی کم

انگلینڈ(نیوز رپورٹر)انگلینڈ میں یکم جون سے پرائمری اسکولوں کے کھلنے کے اعلان کے بعدسرکاری اسکولوں میں بچوں کی غیرحاضری انتہائی کم رہی۔بی بی سی کے مطابق والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے معاملے پر نہ صرف انتہائی محتاط ہے بلکہ نصف سے زیادہ اسکول کھلے ہی نہیں۔یادرہے کہ دوہفتے قبل جب حکومت نے ائیر ون اور ائیر سکس کے بچوں کے لیے اسکول کھولنے کااعلان کیا تو انگلینڈ کی ۸۱ سے زیادہ کونسلوں‘تمام ٹیچر یونیئنز اورڈاکٹر ز کی یونیئنز نے حکومت کے اس فیصلے کوجلد بازی قراردیاتھا۔یکم جون سے حکومتی اعلان کے مطابق لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں خاطر خواہ نرمی کردی گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ بزنس سنٹرز اور گاڑیوں کے شورومز بھی کھولنے کااعلان کیاگیاہے۔اس کے علاوہ عوام کو ایکسرسائز کے لیے بعض احتیاطی تدابیر اختیارکرتے ہوئے پبلک پارکس میں جانے کی بھی اجازت دی گئی نیز گھرسے باہر چھ سے زیادہ لوگوں کے ملنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔حکومت کے ایک اعلان کے مطابق ہرکلاس میں ۵۱ بچے ہوں گے۔بچوں کے کمرے کونئے سرے سے ترتیب دیاگیاہے۔ہاتھ دھونے کے لیے جگہیں اور تازہ ہوا کے لیے کھڑکیاں کھولی جائیں گی۔بچوں کے ڈیسک کے سامنے ہربچے کی اپنی ایک ٹرے ہوگی تاکہ بچوں کو ایک دوسرے سے چیزیں لینے کی ضرورت نہ پڑے اور وہ اپنی جگہ سے کم سے کم اٹھیں۔لیکن والدین یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ جماعت میں ۵۱ بچے ہوں اور تمام کے تمام ایک اسکول میں پورے آجائیں لہذا والدین کی کثیر تعداد بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے حکومتی گائیڈ لائن یا واضح حکمت عملی کا مطالبہ کررہی ہے۔حالیہ سروے کے مطابق پچاس فیصد والدین نے اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجا کیونکہ ایک طویل عرصہ گھروں میں محصوررہنے کے بعد بچوں کا اسکول جاکر اپنے دوستوں سے سماجی دوری اختیارکرنا ممکن نہیں۔اطلاعات کے مطابق حکومت آوٹ ڈورمارکیٹیں حکومت کی طرف سے جاری کردہ گائیڈ لائن کی پابندی کرتے ہوئے کھولنے کا اعلان پہلے ہی کرچکی ہے۔جس کے مطابق لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود بھی لوگ رات کواپنے گھرکے علاوہ کسی اور ایڈریس پر بغیر کسی وجہ کے نہیں رہ سکتے۔دوسری طرف ویلز کی مقامی حکومت نے بچوں کے اسکول جانے کی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی۔جبکہ اسکاٹ ؒلینڈ کی مقامی حکومت نے اگست میں لاک ڈاؤن کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ادھر لنکاشائر کاؤنٹی کونسل بچوں کے اسکول کھولنے کے حق میں نہیں ہے۔اس کونسل کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بچوں کے لیے انتہائی غیرمحفوظ ہوگا۔