یونیورسٹیوں کا دباؤ۔۔HECنے اہم فیصلہ کرلیا

ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے ملک بھر کی جامعات کی درجہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ایچ ای سی کے تحت اب مستقبل میں سرکاری و پرائیویٹ جامعات کی درجہ بندی نہیں کی جائے گی۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد ایچ ای سی کے تحت جامعات کی درجہ بندی کی مخالفت کی تھی۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے شماریاتی ڈویژن کا اس ضمن میں 13 ستمبر

 کو اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں HEC کے تحت رینکنگ نہ کرنے کے معاملے پر تفصیلی بحث کی گئی۔
 
HEC کے تحت جامعات کی رینکنگ آخری بار 2016ءمیںجاری کی گئی تھی جس میں جامعات کا 2015ءکے اعداد و شمار لیے گئے تھے۔ گزشتہ 2 سالوں سے ایچ ای سی کے تحت جامعات کی درجہ بندی معطل ہے اور جامعات سے نئے اعداد و شمار بھی طلب نہیں کیے گئے۔ایچ ای سی ذرائع کے مطابق نجی جامعات درجہ بندی کے باعث مشکلات کا شکار تھیں اور درجہ بندی میں بہتر جگہ نہ ملنے پر ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
ایچ ای سی ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی جامعات کے با اثر مالکان ایچ ای سی کے تحت درجہ بندی کے خلاف تھے اور ایچ ای سی حکام پر اس ضمن میں دباؤ بھی موجود تھا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ایچ ای سی جامعات کی کیپسٹی بلڈنگ کرنے پر توجہ مرکوز رکھے گی تاکہ عالمی سطح کی درجہ بندی میں پاکستان کی جامعات بھی شامل ہوسکیں۔ کمیشن کی ترجمان عائشہ اکرام کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی فی الحال جامعات کی درجہ بندی نہیں کرے گی تاہم یہ درجہ بندی کسی بھی سال میں شروع کی جاسکتی ہے۔ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ درجہ بندی ختم ہونے سے جامعات کے درمیان مثبت مقابلے کا رجحان ختم ہوجائے گا اور جامعات میں ریسرچ کلچر اور کوالٹی آف ایجوکیشن متاثر ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ درجہ بندی ایک واحد پیمانہ ہے جس کے ذریعے سے جامعات کی کارکردگی کا سالانہ بنیادوں پر تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔