عالمی شہرت یافتہ ادیب لکھتے وقت نہایت منفرد اور دلچسپ انداز اختیار کرتے تھے

آپ کا انداز تحریر کیا ہے۔۔۔۔؟
 
عالمی شہرت یافتہ ادیب لکھتے وقت نہایت منفرد اور دلچسپ انداز اختیار کرتے تھے اور عام قاری بھی یقینا جاننا چاہتا ہے کہ اُن کا پسندیدہ ادیب کیسے اتنی منفرد و شاہکار تحاریر تخلیق کرتا تھا ۔
 
منٹو:-
اُردو کے مشہور اور منفرد افسانہ نگار سعادت حسن منٹو لکھتے وقت صوفے پر بیٹھ کر دونوں گھٹنے سکیڑ لیتے اور ایک چھوٹی سی پنسل سے لکھتے۔ افسانہ شروع کرنے سے پہلے وہ 786ضرور لکھتے تھے جو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔
 
راجندر سنگھ بیدی:۔
نامور افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی اپنے معمول کے مطابق صبح تین چار بجے نیند سے بیدار ہوتے ۔ اپنے ہاتھ سے خود اپنےلیے چائے بناتے اور لکھنے کی میز پر بیٹھ جاتے ۔ کبھی کبھی لیٹ کر بھی لکھتے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو افسانہ لکھنے کے لیے کیسا ماحول درکار ہوتا ہے ، تو انھوں نے جواب دیا : ”میز پر کتابیں بکھری ہوئی ہوں اور افسانے کے لیے ایک کاغذ اور ردی کی ٹوکری۔“ ۔۔۔اپنی تحریر میں اگر انھیں کوئی جملہ پسند نہ آتا تو اس کی تصحیح کرنے کی بجائے پورا صفحہ پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے اور نئے سرے سے لکھتے ۔ جب تک افسانے کی نوک پلک ہر لحاظ سے درست ہو جاتی مطمئن نہ ہوتے اور بیقرار رہتے ۔ ان کا یہ معمول تا حیات قائم و دائم رہا۔
 
کرشن چندر:۔
کرشن چندر کا یہ قاعدہ تھا کہ جب بھی انھیں کہانی کے لیے کوئی پلاٹ سوچھتا ، وہ فوراً اس کے بنیادی خیال کوقلم بند کرکے محفوظ کر لیتے تھے تاکہ وہ ان کے ذہن سے نہ اُتر جائے۔ اس طرح انھیں پلاٹ سوجھتے رہتے اور وہ انھیں نوٹ کرتے رہتے ۔ جس خیال کو وہ کہانی کی شکل میں ڈھال دیتے ، اُسے اپنی اس فہرست سے قلمزد کردیتے ۔ اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ۔۔۔۔اس مقصد کے لیے انھوں نے باقاعدہ ایک رجسٹر سا بنا رکھا تھا ۔ محمد طفیل ، مدیر ”نقوش“ لاہور نے جب اُن کا یہ رجسٹر دیکھا تو ابھی ایک سو کے قریب کہانیوں کے بنیادی خیالات کو افسانوں کی شکل دینا باقی تھا۔ ۔۔اردو افسانہ نگاری کی تاریخ میں اس قدر زرخیز ادیب شاید ہی کوئی دوسرا ہوا ہو ۔۔۔اس بارے میں محمد طفیل لکھتے ہیں:
    کسی  نے ان سے پوچھا:آپ روز ایک سے ایک موضوع کس طرح لکھ لیتے ہیں؟ ۔۔”میرے پاس رجسٹر ہے“ ۔۔۔”رجسٹر“ ۔۔”ہاں“ ۔۔۔”کیامطلب“ ۔۔۔رجسٹر دکھا کر : ”ایسا رجسٹر۔ جب کوئی پلاٹ ذہن میں آتا ہے تو اُسے یہاں نقل کر لیتا ہوں ۔“ ۔۔ذرا دیکھوں!۔۔۔ میں نے رجسٹر دیکھا ۔ اس میں تین تین چار چار سطروں میں افسانوں کے بنیادی خیال لکھے ہوئے تھے۔ کچھ یاداشتوں کے آگے اس قسم کے(x)نشان پڑے ہوئے تھے اور کچھ یاداشتوں پر کوئی نشان نہ تھا۔ میں نے پوچھا ”یہ نشانات کیسے ہیں؟“ ۔۔۔کہنے لگے :”جن پر اس قسم کے (x)نشانات ہیں ، وہ افسانے تو لکھے جا چکے ہیں ۔ باقی لکھے جانے والے ہیں۔“ ۔۔۔۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس طرح تو وہاں بھی ایک سو کے قریب لکھے جانے والے افسانوں کی یاداشتیں موجود تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر روز ایک افسانہ لکھ لیتے تھے۔“
 
پریم چند:-
اُردو کے مشہور افسانہ نگار اور ناول نگار پریم چند تنہائی میں کمرا بند کرکے لکھتے تھے۔ ایک بار ان کی بیگم نے چپکے سے کمرے میں جھانک کر دیکھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ پریم چند اردگرد سے بے خبر اپنے لکھنے کے پیڈ پر جھکے ہوئے تھے۔ اس لمحے ان کا چہرہ بہت گمبھیر، بھیانک اور اجنبی سا لگا، تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں، ہونٹ بھینچے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں قلم خنجر کی طرح نظر آرہاتھا۔کچھ دیر بعد پریم چند کمرے سے نکلے اور سیدھے کھانے کی میز کی طرف آئے۔اس وقت ان کا چہرہ پُرسکون،تازہ اور بہت معصوم تھا۔
 
انتظار حسین :-
 انتظار حسین صاحب نے بی بی سی کو دیئے ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں ۔۔ '' کوئی صورتِ حال، ایک تصویر سی ذہن میں آ جاتی ہے اور وہ پکتی رہتی ہے، جیسے دھیمی آنچ پر آپ ایک ہنڈیا رکھ دیں تو وہ پکتی ہے رفتہ رفتہ، اب تو وہ سسٹم نہیں رہا۔ میں تو پرانے زمانے کا آدمی ہوں تو میرے ذہن میں تو یہی مثال آتی ہے کہ چولہے پر ایک ہنڈیا رکھی ہے او دھیمی آنچ پر پک رہی ہے۔ تو بس ایسے ہی ہوتا کہ کوئی خیال آ گیا یا ایک کیفیت ہے یا ایک صورتِ حال ہے جس نے آپ کو متاثر کیا اور آپ کے دل و دماغ میں آ کر اٹک گئی ہے یا بس گئی ہے اور ایک چرخی ہے جو گھومتی رہتی ہے۔ ہم دوسرے کام بھی کرتے رہتے ہیں لیکن وہ اپنا کام کرتی رہتی ہے اور اس کی ایک شکل دل و دماغ میں بنتی رہتی ہے، جب وہ شکل پوری طرح سے بن جاتی ہے تو میں لکھنا شروع کرتا ہوں۔ تو یہ ایک الگ بات ہے کہ لکھتے ہوئے بھی بعض تبدیلیاں ہو جاتی ہیں لیکن ایسے نہیں ہوتا کہ خیال آیا ذہن میں اور میں لکھنے بیٹھ گیا۔ ۔۔۔۔۔ شاید ہی ایک دو کہانیاں ایسی ہوں جو ایک نششت میں لکھی گئی ہوں۔ اکثر اوقات کئی نششتوں میں اور ہفتوں گزر جاتے ہیں جب ایک کہانی ہوتی ہے۔ نہیں وہ چلتی رہتی ہے۔ وہ کیفیت تو اندر دل و دماغ میں چلتی رہتی ہے۔ مجھے یہ مسئلہ نہیں ہوتا کہ وہ ایکسپریشن کا ایک لمحہ تھا اور وہ میرے دل و دماغ سے نکل گیا۔ وہ ایکسپریشن جب آ جاتا ہے نا تو وہ اندر ہی اندر چلتا رہتا ہے۔
مجھے پتہ ہوتا ہے کہ اس کہانی کو کہاں جا کر ختم ہونا ہے۔ یہ الگ بات ہے ختم ہوتے ہوتے یہ خیال بھی آتا ہے کہ اس کہانی کو اس طرح سے نہیں اس طرح سے ختم ہونا چاہیے لیکن پہلے سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کہانی کس طرح چلے گی اور کس طرح سے اسے ختم ہونا ہے۔ ایسی کہانیاں بھی جو دماغ میں آئیں لیکن ان کی پوری شکل و صورت بنی نہیں۔ ان کا وہ جو خیال تھا، جو کیفیت تھی اسے ان کا گوشت پوست ملا نہیں کہ وہ پوری کہانی بن سکتیں۔
 
مولانا ابوالکلام آزاد:۔
مولانا ابوالکلام آزاد ، جو اپنے زمانے کے ایک بے مثل خطیب اور عالمِ متبحر تھے۔ تحریکِ آزادی کے دوران کئی سال قلعہ احمد نگر میں نظر بند رہے ۔ دوران نظر بندی اُن کا قاعدہ تھا کہ وہ علی الصباح چار بجے نیند سے بیدار ہو کر ، اپنے ادبی کام کی جانب رجوع ہونے سے بیشتر ، اپنے لیے چائے بنانے کا عمل شروع کرتے ۔ مولانا صاحب ۔ وہائٹ جسمین کی چینی چائے استعمال کرتے اور اس چائے کا ان کے ہاں بڑا اہتمام تھا ۔ وہ چائے دم دے کر اپنے سامنے رکھتے ۔ اس کے بعد لطیف اور نازک روسی فنجانوں میں یہ چائے ڈالی جاتی ۔ چینی کی بجائے وہ شوگر کیوب استعمال کرتے تھے اور پھر بنا دودھ کی اس چائے کو ، وہ چھوٹی چھوٹی چسکیاں لے کر دیر تک پیتے رہتے ۔۔۔چائے پینے کا انداز یہ تھا کہ ہر چسکی کے بعد سگریٹ کا ایک کش لیتے اور پھر چسکی لیتے ۔ اس طرح ان کا یہ سلسلۂ چائے نوشی ، جو شاید کسی طرح بھی شغلِ مے نوشی سے کم نہ تھا ۔ جاری رہتا ۔ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں:
    ”جام و صراحی کو میز پر دہنی طرف جگہ دوں گا اس کی اوّلیت اس کی مستحق ہوئی ۔ قلم و کاغذ کو بائیں طرف رکھوں گا کہ سرو سامانِ کار میں ان کی جگہ دوسری ہوئی ۔ پھر کرسی پر بیٹھ جاؤں گا اور کچھ نہ پوچھیے کہ بیٹھتے ہی کس عالم میں پہنچ جاؤں۔“
جیب یہ مخصوص فضاتیار ہو جاتی تو مولانا صاحب کا قلم ان کے افکارِ عالیہ کو صفحۂ قرطاس کی زینت بنانے کے لیے مچلنے لگتا ہے۔
 
وکٹر ہیوگو:-
فرانسیسی ناول نگار وکٹر ہیوگو کی یہ عادت تھی کہ وہ لکھتے وقت سیدھے کھڑے ہوجاتے اور لکھنے کے لیے اپنے کندھے جتنی اونچی میز (ڈیسک)استعمال کرتے۔ ونسٹن چرچل بھی ابتدا میں لکھتے وقت اسی قسم کا انداز اپناتے تھے۔
 
الیگزینڈر ڈوما:-
فرانسیسی ناول نویس الیگزینڈر ڈومالکھتے وقت لیموں کے علاوہ اور کسی پھل کا مشروب نہیں پیتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیگزینڈر ڈوما رسالوں کے لیے مضامین لکھتے وقت گلابی کاغذ، اپنی شاعری پیلے کاغذ اور ناول کے لیے نیلے رنگ کا کاغذ اِستعمال کرتے تھے۔
 
شفیق الرحمان :-
اُردو کے منفرد اور ممتاز مزاح نگار شفیق الرحمن ہمیشہ کھڑے ہوکر لکھا کرتے تھے۔اِسی طرح انگریزی کی ادیب کیرولین ویج وڈ کہتی تھیں کہ لکھتے ہوئے بعض اوقات ریڈیو سُننے سے انہیں خیالات مجتمع کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
 
جیمز جوائس:-
آئرلینڈ کے مشہور ناول نگار جیمز جوائس نے اپنی تمام تحریریں بستر پر اُلٹے لیٹ کر لکھیں۔ ان کا کہنا تھا: ’’میں اس طریقے سے لکھتے ہوئے آرام محسوس کرتا ہوں۔‘‘
 
حکیم محمد سعید :-
بچوں کے عظیم محسن حکیم محمد سعید عام طور پر رَف لکھتے وقت اشتہارات کے پچھلے حصے کا اِستعمال کرتے تھے۔ یہ اشتہارات مختلف اخبارات میں ہوتے تھے یا عموماً ایڈورٹائزنگ کے لیے لوگ ان کا اِستعمال کرتے تھے۔ حکیم صاحب کے بقول۔’’ یہ قوم ابھی اتنی امیر نہیں ہوئی کہ بہترین کاغذ کا اِستعمال کرسکے۔‘‘ حالانکہ حکیم صاحب کے پاس کس چیز کی کمی نہ تھی لیکن اُن کی یہ بات اِس قوم کو سادگی اور کفایت شعاری کا درس دیتی ضرور نظر آتی ہے۔
 
کئی ادیب و شاعر لکھتے وقت سگریٹ کا اِستعمال کرتے تھے کیونکہ اُن کے مطابق سگریٹ اُن کے دماغ کو متحرک رکھتی ہے۔ حالانکہ اسی سگریٹ نوشی کی وجہ سے وہ مہلک بیماریوں میں مبتلا رہے۔
اسی طرح بعض ادیب لکھتے ہوئے چائے پینے کے عادی ہوتے ہیں۔ مشہور ادیب ایڈگر رائس اپنی دلچسپ اورچونکادینے والی کہانیاں چائے کی بے شمار پیالیاں پی کر لکھتے تھے۔
 
بالزاک:-
 فرانسیسی ادیب بالزاک چائے کے بجائے کافی پیتے تھے۔ وہ آدھی رات سے لے کر اگلے دن کی دوپہر تک لکھا کرتے تھے۔ اس دوران وہ کافی کی لاتعداد پیالیا ں پی جاتے۔ ایک دفعہ انہوں نے مذاقاً کہا تھا۔ ’’میں کافی کی دس ہزار پیالیاں پی کر مروں گا۔‘‘
 
ڈیکسٹر:-
بعض ادیب ایسے بھی گزرے ہیں جو لکھنے کے دوران اپنے قریب سیب یا شہد رکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سیب یا شہد کی خوشبو سونگھنے سے ان کے خیالات کو تحریک ملتی تھی۔
ادیب ڈیکسٹر اپنی تحریر میں کامے، فل اسٹاپ اور ڈیش وغیرہ نہیں لگاتے تھے۔ وہ اپنی تحریر میں انگریزی لکھائی کے اس قاعدے کا بھی لحاظ نہیں رکھتے تھے کہ ہر نیا جملہ بڑے حروفِ تہجی سے شروع ہو۔ اس وجہ سے ان کی تحریر ایک طویل ترین جملہ لگتی تھی۔ ان کی کتاب کے ناشر نے ایک دفعہ پریشان ہوکر انہیں لکھا کہ اس میں نہ تو کاما ہے، نہ فل اسٹاپ، میں کیا کروں؟ ڈیکسٹر کو تائو آگیا۔ انہوں نے کچھ کاغذوں پر بے شمار کامے، ڈیش، فل اسٹاپ وغیرہ لکھے اور انہیں ناشر کو اِس نوٹ کے ساتھ روانہ کردیا کہ جہاں جہاں ضرورت ہو، وہ اس کاغذ سے کامے، ڈیش اور فل اسٹاپ وغیرہ لے لے۔
 
کومپٹن میکنزی:-
برطانیہ کے معروف ادیب کومپٹن میکنزی لکھتے وقت پسِ منظر میں کلاسیکی موسیقی کی دُھنیں سُنا کرتے تھے۔ میکنزی کا کہنا تھا کہ ایسی موسیقی اس کے خیالات کو توانائی بخشتی ہے۔
 
چارلس ڈکنز:-
اب توکمپیوٹر کا دورآگیا ہے، لیکن اگلے وقتوں میں تحریر صاف رکھنے کے لیے عموماً ٹائپ رائٹر اِستعمال کیا جاتاتھا۔ مشہور ادیب چارلس ڈکنز اس کااِستعمال نہیں جانتے تھے، اس لیے ڈکنز کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریریں پڑھنا بہت دشوار ہوتا تھا۔ ان کی تحریریں خاردار تاروں کی طرح اُلجھی ہوئی نظر آتیں۔ یقینا ڈکنز کی تحریروں نے ناشرین کو بڑا پریشان کیا ہوگا۔
 
ڈیوما:-
سب سے عجیب عادات و حرکات اُن ادیبوں کی تھیں جو خاص قسم کے ماحول میں خاص قِسم کا لباس پہن کر لکھتے تھے۔ مثلاً مشہور ادیب ڈیوما لکھتے ہوئے ایک اونچی لمبی ٹوپی، پھول دار جاپانی چوغے کے ساتھ پہنتے۔ وہ کہتے تھے:
’’میرے آدھے خیالات اس ٹوپی کے اندر ہوتے ہیں اور آدھے اِس چوغے میں، جو میں روحانی مناظر لکھتے وقت پہنتا ہوں۔‘‘
 
پو:-
مختصر افسانے کے بانی مشہور مصنف ایڈگرایلن پو کے متعلق کہا جاتاہے کہ وہ لکھتے وقت اکثر اپنی پالتوبلی کو کندھے پر بٹھا لیتا تھا۔
 
بشکریہ اردو ڈائجسٹ ، بی بی سی ۔ آہنگ ادب ۔