جامعہ کراچی کی اراضی پر نرسری قائم

جامعہ کراچی کی سابقہ وموجودہ انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی روڈ کے دوسری جانب واقعہ مادرعلمی کی قیمتی اراضی از خود غیرمتعلقہ افرادکے حوالے کرنے کامعاملہ سامنے آیاہے۔

دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹرمحمد قیصر نے یونیورسٹی روڈ پرجامعہ کراچی کی چاردیواری کے ساتھ فٹ پاتھ پرقائم ’’نرسری‘‘ کو یونیورسٹی کی اپنی 7 ایکڑ اراضی پر منتقلی کی اجازت دی تھی غیرقانونی طور پر قائم یہ نرسریاں جامعہ کراچی کی کئی ایکڑ اراضی پر تاحال موجود ہیں اور موجودہ انتظامیہ بھی اپنی زمین سے اس قبضے کوختم کرانے میں ناکام ہے۔

دوسری جانب موجودہ انتظامیہ کے دورمیں بظاہرجامعہ کراچی کے دفتررجسٹرارکے ’’لیٹرہیڈ‘‘پرایک این او سی جاری کیے جانے کابھی انوکھامعاملہ سامنے آیاہے جس میں ایک غیرمتعلقہ پرائیویٹ بلڈرکویونیورسٹی کی اراضی پر تعمیرات کی این اوسی جاری کی گئی ہے اوراس این اوسی پر بظاہریونیورسٹی کے موجودہ رجسٹرارپروفیسرڈاکٹرماجد ممتازکے دستخط ہیں تاہم یونیورسٹی کے رجسٹراراس خط کوجعلی اوراپنے اسکین دستخط قراردے رہے ہیں لیکن وہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تیارنہیں ہیں جس سے معاملہ مزید الجھ گیا۔

جامعہ کراچی کے دفتررجسٹرارکے لیٹرہیڈ پرگزشتہ ماہ 23جولائی کو ایک خط متعلقہ پرائیویٹ پارٹی کوجاری کیا گیا جس میں اس نجی پارٹی کے گزشتہ خط کاحوالہ دیتے ہوئے کہاگیاہے کہ پلاٹ نمبر’’ ایس بی 11اورایس بی 12 ‘‘ بلاک نمبر2 اسکیم 36جامعہ کراچی کے دائرہ کار میں آتاہے تاہم جامعہ کراچی کی جانب سے الاٹ نہیں کیاگیا تھا۔

اسی خط میں بظاہر یونیورسٹی رجسٹرارنے موقف اختیار کیا ہے کہ ان پلاٹس پر کے ڈی اے کی منظوری اورتعمیرات پرانھیں کوئی اعتراض نہیں ہے، ایسی صورت میں جبکہ کورٹ میں اس سلسلے میں کوئی کیس موجود نہ ہونے جب معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے جامعہ کراچی کے رجسٹرارپروفیسرڈاکٹرماجد ممتاز سے رابطہ کیا تو ایک جانب توانھوں نے اس امکان کوہی مستردکردیاہے ایسا کوئی خط ان کی جانب سے جاری کیا گیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خط جعلی ہے تاہم جب ان سے سوال کیاگیاہے وہ اس معاملے کی انکوائری کیوں نہیں کراتے جس پر انھوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا اورکہا ہے ایسے سیکڑوں خطوط توشہر میں جاری ہوتے رہتے ہیں تاہم اسی گفتگو میں انھوں نے انکشاف کیا کہ سابق وزیراعلیٰ سیدمرادعلی شاہ کی جانب سے مقررکی گئی۔

جامعہ کراچی کی رکن سینڈیکیٹ اور رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی نے کئی باران پلاٹس پرتعمیرات کے لیے این اوسی جاری کرنے کی سفارش کی تھی تاہم ہم نے اسے مستردکردیا اورایک لیگل نوٹ متعلقہ پارٹی کے حوالے کیاجس میں ان کی درخواست یکسرمستردکی گئی جب رجسٹرارجامعہ کراچی سے اس لیگل نوٹ کے بارے میں استفسارکیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس کاایک عکس یونیورسٹی کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں بھی موجودہے۔

ادھرجب جامعہ کراچی کی اسٹیٹ افسرنورین شارق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دفتررجسٹرارکی جانب سے ایساکوئی بھی خط انھیں نہیں بھجوایاگیا تاہم متعلقہ پارٹی کی درخواست پرہم نے یونیورسٹی کے لیگل سیکشن سے رائے لی تھی جس پرلیگل سیکشن نے اسے یونیورسٹی اراضی قراردیتے ہوئے کسی بھی قسم کی این اوسی جاری کرنے کاامکان مستردکردیاتھا جس کے بعد اسٹیٹ آفس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

نورین شارق کاکہناتھاکہ انھوں نے جامعہ کراچی کے رجسٹرارکے سامنے یہ خط رکھاتھارجسٹرارنے یہ توکہاکہ یہ خط انھوں نے جاری نہیں کیاتاہم جعلی خط کے معاملے پر انکوائری نہیں کرائی۔

دوسری جانب یونیورسٹی روڈپرموجودجامعہ کراچی کی مذکورہ 7ایکڑقیمتی اراضی کے معاملے پر مزیداہم انکشافات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرمحمد قیصرنے 5جنوری 2017کوایک آفس آرڈر کے ذریعے بعض پرائیویٹ نرسریزکووقتی طورپرسڑک کے دوسری جانب جامعہ کراچی کی ہی اراضی پر منتقل کرنے کی اجازت دی تھی۔

تاہم اپنی سبکدوشی سے کچھ قبل 11جنوری 2017کوہی دفتررجسٹرار نے مزیدایک دوسرے آفس آرڈرکے ذریعے شیخ الجامعہ ڈاکٹرمحمد قیصرکے احکامات پر 5جنوری کونکالے گئے احکامات کوواپس لے لیالیکن اس وقت تک یہ نرسریز جامعہ کراچی کی قیمتی اراضی پر منتقل ہوچکی تھی جس کے لیے یونیورسٹی کے بااختیارادارے سینڈیکیٹ کی منظوری لی گئی اورنہ ہی ان نرسریزسے جامعہ کراچی ماہانہ بنیادوں پرکرایہ وصول کرتی ہے۔

متعلقہ افرادان نرسریزکے ذریعے یونیورسٹی کی اس اراضی پر قابض ہیں اورڈیڑھ سال سے زائد کاعرصہ گزرنے کے بعد اب نئی انتظامیہ بھی اپنی اس زمین کوخالی کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی اوریونیورسٹی کی یہ قیمتی اراضی عملی طور پر بظاہراب یونیورسٹی کے ہاتھ سے جاچکی ہے تاہم جامعہ کراچی کے رجسٹرارپروفیسرڈاکٹرماجد ممتازکاکہناہے کہ جلد ان نرسریز سمیت تمام قابضین کے خلاف کارروائی ہوگی اورجامعہ کراچی اپنی اراضی پر کسی قسم کاقبضہ برداشت نہیں کرے گی۔