کثیرالجماعتی مباعثہ، تعلیمی ایجنڈے پر عمل کرنے کا عہد

 سیاسی اُمیدوارلاہور میں معیاری تعلیمی اصلاحات کو یقینی بنانے کے لیے تعلیمی ایجنڈے پر عمل کا عہد کرتے ہیں۔ 
 
     لاہور۔ عام انتخابات2018 میں حصہ لینے والے مختلف اُمیدواران نے ایک کثیرالجماعتی مباحثے میں شرکت کی اور لاہور شہر کے سرکاری اسکولو ں میں تعلیم کی ابتر صورتحال پر گفتگو کرنے اور اس کی بہتری کے لیے شہریوں کی جانب سے پیش کردہ تعلیمی ایجنڈے پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ 
     اس کثیر الجماعتی کنونشن کا انعقاد”الف اعلان “ اور علم دوست کی جانب سے،شعورویلفیئر، ادارہِ تعلیم و آگہی اورکافکا ویلفیئر آرگنائزیشن کے اشتراک سے کیا گیا۔
    شرکاءمیں پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے سینٹر ڈاکٹر مصدق ملک اور شائستہ ملک شامل تھے جبکہ کنونشن کے دیگر شرکاءمیں پاکستان پیپلز پارٹی سے ذولفقار علی بدر،افتخار احمد اور عاصم بھٹی ، پاکستان تحریکِ انصاف سے زبیر نیازی اور ڈاکٹر نوشین حامد، عوامی نیشنل پارٹی سے امیر بہادر خان ہوتی،جماعت ِ اسلامی سے حافظ سلمان،جبران بٹ،ذکر اللہ مجاہد اور امیر العظیم شامل تھے ۔ کنونشن میںزعیم قادری نے بطور آزاد اُمیدوار شرکت کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی نمایندگی کے لیے زیبا احسن موجود تھیں۔
   لا ہور کی تعلیمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر توجہ دلائی گئی کہ شہر میں پرائمری کے بعدمڈل،ہائی اور ہائیر سکینڈری اسکولوں کی کمی اور بدتر معیار ِ تعلیم شہر کی دگرگوں تعلیمی حالت کی دو بڑی وجوہات ہیںاور سیاسی اُمیدواران کو اپنے حلقے میں تعلیمی صورتحال بہتر بنانے کے لیے انہی دو عوامل پر سب سے زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ 
   سیشن میں گفتگو کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے عہد کیا کہ وہ بچوں کے بہتر تعلیمی قابلیت کے لیے اسکول سطح پر ہی وسیع البنیاد تعلیمی پروگرام متعارف کرائیں گے ۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی نمائندہ ڈاکٹر نوشین حامد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آکر سائنسی تعلیم پر خاص توجہ سے گی اور اساتذہ کی تربیت اور سائنسی نصاب کو جدید سطور سے ہم آہنگ کرنا ان کی ترجیحِ اول ہوگی۔ انہوں نے شرکاءکی توجہ پاکستان تحریک انصافی کے تعلیمی منشور کی جانب بھی مبذول کرائی جس کے مطابق یہ جماعت STEM ایجوکیشن پر خاص توجہ دے گی۔تقریب کے شرکاءنے تعلیمی بجٹ میں اضافے اور نجی و سرکاری اسکولوں کی ریگولیشن پر خاص زور دیا ۔ تقریب میں شامل پاک سرزمین پارٹی کے نمائندہ نے بچوں کو پہلی جماعت سے میٹرک تک مفت تعلیم دینے کا عہد کیا۔ 
   اس سیشن کے دوران عوام کی جانب سے بھی سوالات سامنے آئے جن میں اُمیدواران سے تعلیم کے لیے ان کے اگلے پنج سالہ منشور اور اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا۔تقریب میں شریک ایک شخص کی جانب سے سوال اُٹھایا گیا کہ سیاسی جماعتوں نے اب تک معذور بچوں کی تعلیم کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔جبکہ ایک دوسرے شریک کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی کہ سیاسی جماعتوں کو اسکول اور یونیورسٹیوں کے صنعتوں سے تعلقات استور کیے جائیں تاکہ تعلیم مکمل ہونے پر انہیں ملازمت کے بہتر موقع میسر آسکیں۔ 
  الف اعلان کی جانب سے سال 2017 میں جاری کردی ضلعی تعلیمی رینکنگ میں لاہور کا شمار ملکی سطح پر بتیسویں جبکہ صوبائی سطح پر انیسویں نمبر پر ہوتا ہے ۔ یہ رینکنگ ضلع میں تعلیم کے حوالے سے صنفی توازن، سیکھنے کے معیار کے نتائج اور شرح داخلہ برقرار رکھنے جیسے پیمانوں کی بنیاد پر ترتیب دی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ اس رینکنگ کے مطابق لاہور ضلع میں بچوں کے سیکھنے کے معیار کے نتائج کا اسط اسکور صرف 53.93رہا جو کہ نہایت کم ہے۔ 
    مزید یہ کہ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کی جانب سے لیے گئے امتحانات میں لاہور کے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی کاکردگی مایوس کن رہی اور یہاں کہ بچوں کا انگریزی، ریاضی اور سائنس مضامین میں اوسط اسکور صوبے میں سب سے کم رہا۔ لاہور شہر میں پڑھنے والے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے طلباءان اہم مضامین میں پچاس فیصدی بھی اسکور نہ کر سکے۔ شہر میں بدتر معیارِ تعلیم اور مایوس کن نتائج کی ایک بڑی وجہ یہاں کے 155 ہائی اور ہائیر سکینڈری اسکولوں میں فعال سائنسی عمل گاہوں یا لیبارٹریز کا نہ ہوناہے۔ 
    اس کے علاوہ ضلع کے کل 1202سرکاری اسکولوں میں سے مڈل اسکولوں کی تعداد صرف 234ہے جبکہ پرائمری اسکول یہاں کے آدھے سے زیادہ، 610 اسکول پرائمری درجے کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پرائمری پاس کرنے کے بعد بچوں کے پاس تعلیم جاری رکھنے کے لیے مناسب تعداد میں اسکولوں کا نہ ہونا انہیں تعلیم ترک کر دینے یا نجی اسکولوں میں مہنگی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اسی باعث ہمیںپرائمری کے بعد بچوں کی شرح داخلہ میں کمی دیکھنے کو ملتی ہے جو کہ دسویں جماعت کے بعد گیارہویں میں جاتے ہوئے تشویش ناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔اعداد و شمار میںدسویں جماعت سے نکلے والے 46,468بچوں میں سے گیارہویں جماعت تک صرف 3161بچے ہی پہنچ پاتے ہیں لاہو ر میں ہر پانچ میں سے چار اسکول نجی ہیں اور صرف سرکاری اسکولوں کی اس قدر کم تعداد شہر کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہ کافی ہے۔ 
    موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لاہور بھر میں ہر سطح پر نجی اسکول سرکاری اسکولوں سے کئی زیادہ ہیں۔سرکاری اسکولوں کی کمی اور نجی اسکولوں کی بہتات کے باعث طلباءکے والدین اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں مہنگی تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں۔
لاہور میں آیندہ منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہاں کہ بچوں کو معیاری تعلیم دینا اور ضلع کے290,000 کے قریب اسکول نہ جانے والے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنا ہوگا۔ 
    تمام شرکاءنے اساتذہ، والدین اور شہریوں کی جانب سے مرتب کردہ تعلیمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر آئندہ آنے والے مہینوں میں اپنے اپنے حلقوں میںموجود اسکولوں کی حالت زار اور معیارِ تعلیم بہتر کرنے کا عہد کیا۔ 
 
 تعلیمی ایجنڈے میں شامل مطالبات یہ تھے:
یہ مطالبات چیئرمین شعور ویلفیئر کامران خان اور مینیجنگ ڈائریکٹر شہزادروشن گیلانی نے پیش کئے
 
 ۱۔ سرکاری اسکولوں کی پرائمری سے مڈل، مڈل سے ہائی اور ہائی سے ہائیر سکینڈری اسکولوں میں ترقی کی جائے۔ 
۲۔ طلباءکی سہولت کے لیے جدید سائنس اور کمپیوٹر لیبز کا قیام یقینی بنایا جائے۔ 
۳۔ طلباءکو فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی سے متعلق جدید ترین تکنیکوں سے روشناس کرانے کے لیے سائنسی عمل گاہوں اور سازو سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ 
۴۔ نئے سرکاری اسکولوں کی تعمیر اور پہلے سے قائم شدہ اسکولوں کے معیار میں اضافہ کیا جائے تاکہ والدین اپنی بچوں کو معیاری اور سستی تعلیم دلوانے کے قابل ہو سکیں۔
۵۔ اسکولوں میں لائبریریوں کی تعمیر کی جائے اور کمپیوٹر اور سائنس مضامین کے لیے قابل اساتذہ بھرتی کیے جائیں۔ 
۶۔ اساتذہ کی تربیت کا خاص اہتمام کیا جائے تاکہ وہ بچوں کو جدید سطور سے ہم آہنگ تعلیم دینے کے قابل ہو سکیں۔ 
۷۔ اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور اس کا رکارڈ رکھنے کے لیے بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا جائے۔ 
۸۔ اسکولوں میں صحت مند غیرنصابی سرگرمیوں کا فروغ دیا جائے۔ 
۹۔ اسکولوں کے لیے مختص بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور پرنسپل صاحبان کو اس بجٹ کو درست اور موثر انداز میں خرچ کرنے کے لیے تربیت فراہم کی جائے۔ 
۰۱۔ مستحق طلباءکے لیے سکالرشب اسکیموں کا اجراءکیا جائے۔