ماحولیاتی آلودگی اور سد باب

ماحولیاتی آلودگی اور سد باب
 
عقل انسانی جسم میں  حواس خمسہ کے ذریعے موصول ہونےوالی موجودات و غیر موجودات کی اطلاع کو چانچتی یے۔ اس عمل کو عام اصطلاح میں غور و فکر کہا جاتا ہے انسان کو عطا کی گئ یہ عقل اب مسائل   کا حل نہیں بلکہ اس کی تباہی کا سبب بن رہی  ہے ۔ 
 
وہ فکر گستاخ جس نے عریاں کیا فطرت کی طاقتوں کو
اُسی کی بیتاب تجلیوں سے خطر میں ہے اُس کا آشیانہ
 
صنعت کاری ، شہروں کی غیر معمولی آبادی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں  کے باعث ماحول کی خرابی نے انسانی زندگی میں سنگین عدم توازن پیدا کردیا ہے۔ہمارا ملک پاکستان  بھی انہی مسائل سے دوچار ہے۔ جہاں جنگلات کاٹے جارہے ہیں زرخیز مٹی برباد ہورہی ہے ، صنعتی فضلات پر مشتمل یہ زہریلی کثافت پینے کا صاف پانی اور فضا کو آلودہ کر رہی ہے۔ صنعتی  فیکٹری لگنے سے سانس کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔ زیر زمین پانی ختم ہوگیا ہے، بے تحاشہ استعمال میں آنے والی کیمیائی اشیاء، دوائیں، کیڑے مار ادویہ، پلاسٹک پیکنگ اور آرائشی سامان وغیرہ سے  بھی آلودگی پیدا ہونے سے صحت پر منفی اثرات مرتب  ہو رہے ہیں۔ جو کینسر جیسے موذی مرض کا سبب بنتے ہیں
۔ماحولیاتی آلودگی کی اقسام میں  زمینی آلودگی‘ آبی آلودگی‘ ہوائی آلودگی ،شعاعی آلودگی اور شور کی آلودگی ہیں۔ آلودگی خواہ کسی بھی قسم کی ہو اس سے انسانی صحت اور قدرتی ماحول بہت بری طرح متاثر ہوتاہے۔ مثال کے طور پر شور کی آلودگی سے طبیعتوں میں چڑچڑاپن‘ سردرد‘تھکاوٹ‘ ڈیپریشن اور بہرے پن کے مسایل جنم لے رہے ہیں
۔۔ضرورت اس امر کی ہے کہ
ماحول میں ہونے والی منفی تبدیلوں کی روک تھام کے لیے شجرکاری کی جاے۔ ،فیکٹریوں اور گھروں کی گندگی پانی میں نا پھینکی جائے ، زہریلے دھوئیں کے اخراج پر کنٹرول کیا جاے۔ ۵  جون کو  ہر سال  عالمی یوم ماحولیات کے دن عوام میں شعور بیدار کیا جاے۔عوام کو حفظان صحت کے امور سے   متعلق شعور دیا جاے۔  کہ اگر انہوں نے اپنے ماحول کو صاف وشفاف نہ رکھا تو ایک دن وہ ان کی ہلاکت کا باعث بنے گا۔  وزیراعظم عمران خان کی مثبت سوچ کے تناظر میں شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر شہری اپنے حصے کا پودا لگا ئے اور  درخت لگانے کے فوائد کے بارے میں کمیونٹی موبلائزیشن اور آگاہی مہم شروع کی جائے اور پودے لگانے کے بعد انکی دیکھ بھال کا بھی موثر انتظام کیا جائے تاکہ پودے درخت بن کر ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوں۔سائیکلنگ اشیا کا استعمال کیا جائے تا کہ کچرا بننے کے امکانات کم سے کم ہوں۔ پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کیلئےانوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سموگ بنائی جارہی ہے جو فیکٹریوں کے فاضل مادوں کے اخراج اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کو یقینی بنائے گی، اس سلسلہ میں پنجاب حکومت نے ڈی جی خان اور بہالپور میں ماحولیاتی لیبارٹریز کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ انوائرمنٹل ایجنسی فیکٹریوں سے نکلنے والے فاضل مادوں کے اخراج کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی لگائے گی، انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے تحت اسٹریٹجک پلاننگ اینڈ ایمپلی منٹیشن یونٹ پنجاب گرین ڈویلپمنٹ پروگرامز پر عملدرآمد کروائے گا۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریاں پر دھیان دیناہوگا۔ اپنی اور آنے والی نسلوں کی  بقا  کی خاطر اس پر قابو پانا ہو گا۔