پنجاب یونیورسٹی میں انسٹیویٹ آف ڈیموکرٹیس ایجوکیشن اینڈایڈوکیسی کے تعاون سے طلبا میں برداشت ،امن و روادری کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا گیا

پنجاب یونیورسٹی میں  انسٹیویٹ آف ڈیموکرٹیس ایجوکیشن اینڈایڈوکیسی کے تعاون سے طلبا میں برداشت ،امن و روادری کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا گیا ۔سلمان عابد ایگزیکٹیو ڈائریکٹرآئیڈیا نے طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے سیشن کروانے کا مقصد معاشرے میں امن ،روادری ،برداشت اور باہمی مکالمے کا کلچر پروان چڑھانا ہے تاکہ ہم اپنے طالب علموں کی مدد سے سماجی ،سیاسی اور معاشی مسائل کو بنیاد بنا کر نئی تحقیق پر مبنی بیانیہ کوسامنے لائیں اورمسائل کو اجاگر کریں جن کی وجہ سے معاشرے میں انتہا پسندی کاخاتمہ ممکن ہو ۔اس موقع پر سابق ایم این اور اور معروف سماجی رہنما مہناز رفیح کا کہناتھا کہ تعلیمی اداروں میں مکالمہ کے کلچر کو پروان چڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے ،اگر ہم پاکستان کو ایک محفوظ مستقبل دینا چاہتے ہیں اور نئی نسل سے ایسی قیادت کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں طلبہ کو شامل کرنا ہوگا تاکہ وہ معاشرے کو درپیش اہم مسائل کو سمجھ سکیں اور ان کے حل کے لئے نئے آئیڈیاز سامنے لاسکیں بلخصوص ہماری نوجوان لڑکیوں کو اس میدان میں سامنے آناچاہئے اور اس طرح کے مباحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے ۔مجھے خوشی ہے کہ ہمارے طالبعلم طرف  بہت اچھے سوالات کررہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تمام ایشوز سے باخبر بھی ہیں ۔اینکر پرسن منصور قاضی نے کہا کہ نوجوان طبقہ ایک کلیدی حثیت رکھتا ہے۔آپ نوجوانوں کو معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں برداشت ،روادراری اور امن کی فکر پروان چڑھ سکے ۔تاریخ دان پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین نے طلبہ کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کالائحہ عمل ترتیب نہیں دیں گے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ہمیں ہر طرح کے تعصب ،نفرت ،تقسیم سے نئی نسل کو دور کرناہوگا ۔اسی طرح ہمیں کئیرئیر کونسلنگ کی طرف توجہ دیناہوگی تاکہ طلبہ معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔اینکر پرسن مدیحہ مسعود نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ معاشرے میں امن روادراری کا کلچر پروان چڑھانے کے لئے طالبعلموں کو امن کا سفیر بننا ہوگا ۔کیونکہ اگر ہم اس بیانیہ کو لڑکے اور لڑکیوں میں پروان چڑھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پورا معاشرہ امن و محبت اور روادری کا مظہر بن جائے گا ۔ طلبا و طالبات نے مہمانوں سے سوالات کئے اس موقع پر فکیلٹی ممبران و اساتزہ کی کثیر تعداد بھی موجود تھی ۔