معاشرے میں برداشت اور رواداری کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی ادارے بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں

معاشرے میں برداشت اور رواداری کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی ادارے بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں 
پنجاب یونیورسٹی اور ادارہ برائے جمہوری تعلیم اینڈ ایڈوکیسی )آیڈیا(کی پینل ڈسکشن سے سلمان عابد، فرخ سہیل گوئندی، شہزادہ عرفان ، ڈاکٹر تہمینہ انجم ،سائرہ افتخار اور ڈاکٹر مہناز حسن کا خطاب
)پ ر(نوجوان نسل میں امن پسندی ، برداشت، تحمل ، رواداری اور سماجی اہم اہنگی کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں سماجی او رکلچرل بنیادوں پر ایسی آگاہی مہم اور غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جو لوگوں کو تقسیم کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے مذہب، سیاسی و سماجی خیالات ، مختلف صوبوں کے بچوں اور بچیوں میں سماجی اہم اہنگی او رمل جل کر کام کرنے اور بیٹھنے کی سوچ کو فروغ دیں ۔ اس وقت ملک میں موجود انتہا پسندی کے خاتمہ میں بھی نئی نسل کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ کیونکہ تعلیمی اداروں کا مقصد ہی نئی نسل کی سوچ او رفکر میں ایک ایسی اعتدال پسندی کو فروغ دینا ہے جو معاشرے میں انصاف او رامن کو فروغ دے سکے ۔
ان خیالات کا اظہار پنجاب یونیورسٹی او رادارہ برائے جمہوری تعلیم اینڈ ایڈوکیسی )آیڈیا(کے موقع پر ہونے والی پینل ڈسکشن میں مختلف مقررین نے کیا ۔ ان مقررین میں سلمان عابد، فرخ سہیل گوئندی ، شہزادہ عرفان ، سائرہ افتخار، ڈاکٹر مہناز حسن اور ڈاکٹر تہمینہ انجم شامل تھے ۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں مختلف فریقین میں جو شدت پسندی بڑھ رہی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں نئی نسل کی بہتر راہنمائی اور ان کے لیے زیادہ سے زیادہ نصابی سرگرمیوں میں مواقع پیدا کرنا ہے ۔کیونکہ انتہا پسندی یا شدت پسندی کا مقابلہ مختلف صوبو ں کے درمیان سماجی کلچر کی قبولیت اور احترام سے جڑا ہوا ہے ۔
یونیورسٹیوں کی سطح پر موجود سوسائٹیوں کو زیادہ مضبوط او رفعال کرنا ہوگا اور ان سوسائٹیوں کی مدد سے زےادہ سے زیادہ کلچرل سرگرمیوں کا انعقاد او رامن و رواداری کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا ۔ نئی نسل کو امن کے سفیر کے طو رپر خود کو پیش کرنا ہوگا اور نوجوانوں کو امن کے ایجنڈے میں شامل کیے بغیر امن کی تحریک آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ہماری نصابی کتابوں میں امن او ررواداری سے جڑے مسائل او ران کی اہمیت کو شامل کرنا ہوگا ۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں شاعری ، ادب ، ڈرامہ او رتھیٹر جیسی سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر ہم امن ، برداشت اور رواداری کے کلچر کو فروغ دے سکتے ہیں ۔
ہماری نوجوان نسل کو ثابت کرنا ہوگا کہ امن کا ایجنڈا ملک کے ساتھ ساتھ ان کا اپنا ایجنڈا بھی ہے کیونکہ امن کی بنیاد پر ہی نوجوان اپنے مستقبل کی جانب بھی بہتر پیش رفت کرسکتے ہیں ۔ خاص طور پر نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کی طاقت سے امن کے ایجنڈے کے فرو غ میں خود کو قیادت کرنا ہوگی اور اس تاثر کی نفی کرنا ہوگی کہ نئی نسل شدت پسندی رکھتی ہے ۔طالب علموں کے ساتھ سوال جواب کی نشست بھی رکھی گئی اور نوجوانوں نے مختلف سوالات کی مدد سے امن سے جڑے مسائل اور چیلنجز کا بھی اظہار کیا ۔