سوال تو یہ ہے ک جب ۔۔۔۔۔

سوال تو یہ ہے ک جب ۔۔۔۔۔
جب کتابیں فٹ پاتھ پر اور جوتے اے سی والی دکان پر ملیں جب ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی نوکری نہ ملے ۔جب ڈاکٹر  مریض سرکاری  ہسپتال  سے اپنے پرائیویٹ کلینک  میں داخل  کرواے ۔جب جنسی مسائل زیر بحث لانا اک گناہ سمجھا جاۓ جب تعلیم براۓتعلیم دی جاۓ تعلیم براۓ تربیت نہ ہو جب جہالت غربت ناانصافی پیمانے کی آخری حدوں کو چھو جاۓ جب اخلاقی رزائل  معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے میں سرایت کر جائیں جب جدید علو م فنون کے حصول سے کنارہ کشی کی جاے جب جزبہ قومیت کا فقدان ہو اور ملکی مسائل کو توجہ نہ دی جائے۔ جب فرقہ بندی اپنے عروج پرہو صوبائ عصبیت ہی منزل مقصود ہو۔ جب زاتی مقاصد کو ملی مقاصد کا لبادہ پہنایا جائے جب تعمیری قوت کو تخریبی قوت میں ڈھالا جائے جب فرقہ پرستی کی بنیاد پر دہشت گردی ہو جب معاشی پالیسیاں ملک کی غربت کا خاتمہ نہ کر سکیں غربت ختم کرنے کا معیار صرف خیرات ہو نہ کہ انصاف جب عدل کا منصفانہ نظام نہ ہو جب سرکاری اداروں میں فنڈز گرانٹس اورٹیھکوں کے نام پر کرپشن کا بازارگرم ہو جب منشیات تعلیمی اداروں میں سر عام استعمال ہو جب پولیو کے قطروں کو حکومتی سازش قرار دیا جائے  جب عزت کا پیمانہ دولت ہو کردار نہ ہو۔  جب زندگی فرعون کی گزاری جائے اور عاقبت موسئ کی مانگی جائے۔ جب غریب کو اس کے کردہ نہ کردہ گناہوں کی سزا دنیا میں دی جائے جب  آبادی کے تناسب سے ہسپتال بہت کم ہوں  جب جبری شادیوں اور مزہب کی تبدیلی کے خلاف قانون سازی مرتب نہ ہو ‏جب وی آی پی  پروٹوکول کی وجہ سے مریض کو ہسپتال لے جانے والی ایمنو لینس کو روکا جائے جب جرگہ سسٹم سے زاتی مسائل اختلافات اور لڑائی جھگڑا سے لے کر خاندانوں قبیلوں قوموں حتی کہ حکومتی اور ریاستی مسائل کا حل بھی اسی کے زریعے ڈھونڈا جائے جب ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر کا وعدہ صرف وعدہ رہ جائے۔ جب قانون کی تکمیل قانون ساز اداروں کی طرف سے بھی نہ ہو.جب خوردونوش کی اشیا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں۔ غربت اور ناانصافی سے انسان خودکشی پر مجبور ہو جائے جب حکومتیں نیشنل فوڈ سکیورٹی پالیسی بنانے اور عملدر آمد میں ناکام رہیں
 جب اساتزہ کا معاشی قتل ہو تو اس  بوسیدہ سماجی معاشرتی نظام میں قوم کی بقا اور ارتقا کیسے ممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔