تین سو سال کی عمر

آج سے ٹھیک چھ سال پہلے 18ستمبر 2013کو امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں ایک کمپنی کی بنیاد رکھی گئی، کمپنی کا نام تھا کیلیکو (CALICO) یعنی کیلیفورنیا لائف کمپنی، اس کمپنی کا مشن بہت دلچسپ تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے جان لیوا بیماریوں کا علاج دریافت کرے گی، بڑھاپے پر قابو پائے گی اور موت کا مسئلہ حل کرے گی۔
 
یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ کسی نے موت کو شکست دینے کا مشن اپنایا تھا، امریکہ میں کچھ کمپنیاں اور ادارے پہلے ہی اِس کام میں جتے ہیں، پے پال کے مالک پیٹر تھیل کی بھی خواہش ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہے اور اِس مقصد کے لئے موصوف نے اپنی نیک کمائی میں سے کچھ ملین ڈالر ایک خیراتی ادارے کو دیے ہیں جو موت کو شکست دینے پر کام کر رہا ہے۔
 
کیلیکو کمپنی کی بات البتہ کچھ اور ہے، یہ گوگل کی ایک ذیلی کمپنی ہے اس لئے سنجیدگی سے سمجھا جا رہا ہے کہ گوگل اِس کمپنی کے ذریعے جس پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے اُس کے نتیجے میں ’’موت کی موت‘‘ واقع ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹائم میگزین نے 2013کے اپنے سرورق پر سُرخی جمائی تھی ’’کیا گوگل موت کا مسئلہ حل کر سکتا ہے‘‘ اور لکھا تھا ’’یہ بات پاگل پن ہی لگتی اگر گوگل کا نام ساتھ نہ جڑا ہوتا‘‘۔
 
پچھلے دس بیس برسوں میں گوگل نے انسانی زندگی کی کایا پلٹ کے رکھ دی ہے، دنیا کا شاید ہی کوئی شخص ہو جس کی زندگی میں گوگل کا کوئی کردار نہ ہو، چاغی میں بسنے والا بلوچ ہو یا رحیم یار خان کا کسان، شکاگو کا تاجر ہو یا افغانستان کا دکاندار، گوگل کے ’’شر‘‘ سے کوئی محفوظ نہیں۔ سو اِس گوگل نے اگر ایک علیحدہ کمپنی بنا ڈالی ہے جو انسانوں کو بڑھاپے سے نجات دلانے کا کام کرے گی تو دنیا اسے مجذوب کی بڑ بہرحال نہیں سمجھے گی اور انتظار کرے گی کہ عالم غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔ فی الحال جو سائنسدان اِس کمپنی میں کام کر رہے ہیں وہ خاصے عمر رسیدہ ہیں لہٰذا ہمیں اُن کی درازی عمر کی دعا کرنا چاہئے تاکہ اُن کی کاوشوں کا نتیجہ دیکھ سکیں۔
 
مرنے کا شوق کسی کو بھی نہیں ہوتا، انسان کی دائمی زندگی کی خواہش اُس وقت سے ہے جب سے وہ دنیا میں آیا ہے، جو لوگ بڑھاپے میں موت کی آرزو کرتے نظر آتے ہیں دراصل وہ موت نہیں مانگ رہے ہوتے بلکہ بڑھاپے سے نجات چاہ رہے ہوتے ہیں۔ اگر لوگ صدا جوان ہی رہیں تو کوئی بھی شخص چاہے وہ دو سو سال پرانا ہی کیوں نہ ہو، کبھی موت نہیں چاہے گا۔
 
ویسے اپنے یہاں تو لوگ خود کو بوڑھا سمجھتے ہی نہیں، نوّے سال کا بابا بھی اگر اپنے سے دس سال چھوٹے بزرگ کو دیکھ لے تو اسے ’’منڈا‘‘ کہہ کر اس لئے بلاتا ہے تاکہ خود اسے بھی لوگ یہی کہہ کر بلائیں۔ تاہم کہنے سننے سے اگر فرق پڑتا تو ہر کوئی ہمیشہ منڈا ہی رہتا، کبھی بوڑھا نہ ہوتا۔ مصیبت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ جب عمر ڈھلتی ہے، چہرے پہ جھریاں پڑنا شروع ہوتی ہیں، لڑکیاں انکل کہنے لگ جاتی ہیں اور لڑکے بزرگ سمجھ کر آپ کے لئے نشست خالی کر دیتے ہیں تو بندہ سوچنے لگتا ہے کہ اب اور کتنے برس میں جی لوں گا، میرے بعد بھی کیا یہ دنیا اسی طرح چلتی رہے گی، کیا میں اِس کی رنگینیاں مزید نہیں دیکھ پاؤں گا، کاش کہ مجھے موت نہ آئے! مگر ہم لوگ یہ باتیں منہ سے نہیں کہتے، دل میں رکھتے ہیں، کہتے ہم یہ ہیں کہ بہت جی لیا، بھرپور زندگی گزار لی، اِس دنیا کی اب اور تمنا نہیں، خدا ہمیں اٹھا لے، وغیرہ۔
 
دراصل ہمیں موت کا اتناخوف نہیں جتنی زندگی سے محبت ہے، اِس دنیا میں خدا نے بہت کشش رکھی ہے، یہاں سے جانے کا کسی کو دل نہیں کرتا مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں یقین ہوتا ہے کہ انہیں موت نہیں آئے گی لہٰذا وہ فرعون بن کر زندگی گزارتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایک دن فراعینِ مصر کی طرح وہ بھی اپنے گریڈ اور رتبے کے ساتھ دوبارہ دنیا میں واپس آئیں گے اور پھر لوگ اِن کے سامنے ہاتھ باندھ کر کہیں گے کہ مائی باپ آپ کے بغیر گزارا نہیں ہو رہا تھا، سو ہماری زندگی کی باگ ڈور سنبھال لیں!
 
اِس وقت ترقی یافتہ ممالک میں انسان کی اوسط عمر تقریباً اسّی سے پچاسی برس ہے جبکہ غریب ملکوں میں اِس سے کہیں کم ہے، انسانوں میں سب سے طویل عمر 122سال ریکارڈ کی گئی ہے، کچھ لوگوں نے اس سے زیادہ عمر کے دعوے کیے ہیں مگر مستند ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ترقی یافتہ ممالک میں طویل عمری کی وجہ ظاہر ہے کہ بہتر ماحول، صحت کی سہولتیں، خالص غذا اور میڈیکل سائنس میں ترقی ہے جبکہ غریب ملکوں میں صورتحال اس کے برعکس ہے، سو نتیجہ بھی اُسی طرح واضح ہے۔ کیلیکو نہ صرف انسانوں کو لاحق ہونے والی بیماریوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ یہ تحقیق بھی کر رہی ہے کہ بڑھتی عمر کے عمل کو کیسے روکا یا کم از کم سُست کیا جائے۔
 
پچھلے ستّر برسوں میں انسان نے میڈیکل سائنس میں جو ترقی کی ہے اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آنے والے وقت میں انسانوں کی عمریں مزید طویل ہو سکتی ہیں، جیسے کہ ڈھائی سو سال یا پھر تین سو سال۔ اگر ایسا ہو گیا تو دنیا وہ نہیں رہے گی جو آج ہے، ہماری زندگیاں تین سو ساٹھ کے زاویے سے بدل جائیں گی، محبت کی نئی داستانیں لکھنا پڑیں گی، جینے مرنے کی قسمیں غیر متعلق ہو جائیں گی، پھر محبوب آپس میں کچھ اِس قسم کے وعدے کیا کریں گے کہ ڈارلنگ میں بیس سال تمہارے ساتھ گزاروں گا، پندرہ سال غزالہ کے ساتھ، اس سے اگلے دس سال سارہ کے ساتھ اور پھر اگلے پانچ سال...! مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ کیلیکو محبت کے اِن دقیق مسائل کا کیا حل نکالے گی مگر اتنا یقین ضرور ہے کہ عورتیں اپنے اِس دعوے سے دست بردار ہو جائیں گی کہ انہیں زندگی میں صرف ایک مرتبہ محبت ہوتی ہے۔ اُس وقت پھر گوگل ہی بتائے گا کہ تین سو سال کی زندگی میں کتنی مرتبہ محبت ہو سکتی ہے!