تربیتی ورکشاپ

." آل پاکستان رائٹرز ویلفیر ایسوسی اہشن"
. . . . . اپوا. . . .
کی سالانہ تربیتی ورکشاپ 2019
 
6اکتوبر 2019 بروز اتوار بمقام ایمبیسڈر ھوٹل لاھور میں۔اپوا کی سالانہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جسمیں نئے لکھنے والوں کو سیکھنے کا بہترین موقع میسر آیا اپوا ہر۔سال نئے لکھنے والوں کی تربیت کے لئے باقاعدگی سے ورکشاپ کا اہتمام کرتی ھے جس میں۔مشاہیر کو دعوت دی جاتی ھے جو اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں آنے والے وقت کے معماروں کی تربیت کرتے ھیں
امسال جن قابل قدر مہمانوں کو دعوت دی گئی ان۔میں
مجیب الرجمن شامی(مائہ ناز صحافی اور تجزیہ نگار)
قاسم علی شاہ (موٹیویشنل اسپیکر )
اسداللہ خان (92 نیوز). . . . . . .
شاہد نذیر. ( سیئنر صحافی )
زبیر احمد انصاری (اپوا کے سرپرست اعلی)
ڈاکٹر جاوید چوہدری ( بین الاقوامی سکالر)
نوید چوہدری (گروپ ایڈیٹر C42)
عطا الرحمن(کالم نگار)
نرجس حسینی (گلگت بلتستان کی نمائندہ)
اپوا کی خواتین۔ونگ کی صدر ناہید نیازی اور ایڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ
تقریب کا۔باقاعدہ آغاز صبح گیارہ بجے ھوا حافظ زاہد صاحب نے تلاوت کلام پاک کی بابرکت سعادت حاصل کی اسکے بعد. حزیفہ اشعف نے نعت رسول مقبول پیش کی تقریب کی نقابت کی ذمہ داری علینہ ارشد نے احسن طریقے سے ادا کی. راقم الحروف نے مہمانوں کے سامنے اپوا کا تعارف ، مقاصد اور انکے احداف پر روشنی ڈالی کہ کس طرح اپوا۔اپنا فعال کردار ادا کرتے ھوے ادب اور پاکستان کی خدمت کر رہی ھے اپوا کے سیاحتی دوروں۔کے بعد ممبران سفرنامے تحریر کر کے پاکستان کی خوبصورتی ، اہمیت اور افادیت کو دنیا سےمتعارف کرواتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ۔پاکستان میں سیاحت کو فروغ دیا جاِے مہمانان خصوصی کے تعارف کے بعد دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ھوے پاکستان کی۔شان میں اپنے خیالات کا اظہار اس انداز میں کیا
. . . سورہ الرحمن. کی. تفسیر پاکستان
. . . مومن کے ہر۔اک خواب کی تعبیر پاکستان
تعارف کے بعد مائیک علینہ کے کیا تاکہ وہ آنے والے مہمانان گرامی کو دعوت خطاب دے
اس تقریب میں۔شرکت کے لیئے مہمان ملک کے دیگر شہروں۔سے بڑی تعداد میں۔تشریف لائےسندھ اور بلوچستان کی نمائندگی بھی موجود تھی تو پنجاب کے دور دراز علاقوں سے بھی شرکاء موجود تھے ڈسکہ سرگودھا اور کوٹ مومن کو تو نایاب جیلانی کے حوالے سےہی خوب پہچانا جاتا ھے نایاب جیلانی اپوا کی ہردلعزیز ممبر ھیں انہوں نے بہت جلد اپوا کے دلوں میں۔اپنا۔مقام پیدا کر لیا ھےوہ چودہ کتابوں۔کی۔مصنفہ ھونے کے۔ساتھ۔ساتھ نہایت خوبصورت شخصیت کی حامل ھیں
علینہ نے پہلی مقررہ نرجس حسینی کو۔دعوت خطاب دی جنہوں۔نے نہایت خوبصورت بات کرتے ھوے نئے لکھنے والوں۔کی کہ "انسانیت کے۔لیئے قلم اٹھائیں تاکہ انسانیت ہی کی آواز بلند ھو نرجس نے اپنے خوبصورت الفاظ کے موتی ایسے لٹائے کہ حاضرین محظوظ ھوئے بغیر نہ رہ سکےنرجس نے اپنی۔تعلیمی مشکلات کا ذکر کرتے ھوئے بتایا کہ انکے علاقے میں خواتین کی۔تعلیم ایک۔مشکل۔مرحلہ ھے اور انہوں۔نے یہ مرحلہ اپنےء۔والد۔کی حوصلہ افزائی سے طے کیا. . . انکے بعد علینہ نے اپنے خوبصورت انداز نقابت سے قاسم۔علی شاہ صاحب۔کو خطاب کی دعوت دی قاسم علی۔شاہ صاحب ایک جانی پہچانی اور معروف شخصیت ھیں۔انکی بات۔اثر رکھتی ھے انداز دل۔میں۔اترتا ھے وہ اپنے خطاب میں۔ہمیشہ گہرے نقوش ثبت کر جاتے ھیں انہوں نے اس بات۔پر زور دیا کہ بچوں۔کو ایسا علم دیا جائے جس میں عمل بھی موجود ھو حاضرین۔محفل نے انکی اس بات کی مکمل تائد کی اور ہم بھی انکے اس خیال متفق ھیں کیونکہ
"Knowledge which is not aplicable is nothing is only a information "
اچھا معاشرہ تب ہی تشکیل پاتا ھے جب ایک معال نسل اسے سنبھالتی ھے
قاسم علی شاہ نے معاشرے کے رویوں۔پر روشنی ڈالتے ھوئے بتایا۔کہ پہلے رقعہ اور درخواستیں۔چلتی تھیں جن سے لوگ سفارش کرواتے تھے اب اسکی جگہ واٹس ایپ نے لے۔لی ھے
انہوں نے نئے لکھنے۔والوں کے لیے روسی مصنف "رسول حمزہ توف " کی کتاب "میرا داغستان " کے پڑھنے کا۔مشہورہ دیا انکے۔خیال میں۔اس سے بٰڑی کوئی اور کتاب نہیں۔ھے۔جو۔نئے لکھنے۔والوں۔کی۔راہنمائی کرےانہوں نے روسی ادب۔پر۔روشنی ڈالتے ھوئے بتایا کہ دنیا۔میں۔سب۔سے زیادہ روسی کتابوں کے۔ےتراجم ھوئے ھیں پاکستانی ادب۔ابھی اس سے بہت دور کھڑا ھے انہوں۔نے کپا کہ جو اصل مصنف یا شاعر ھوتا ھے اسکی تخلیق اس سے کہیں زیادہ عمر پاتی ھے جیسے ہیر وارث شاہ ۔انکے۔خیال میں۔آپ۔کی۔تحریر میں آپ کے زمانے کااظہار ھو تب ھی آپ آنے والے زمانے کے۔لہئے باقی رہ۔پائیں گے اور ایک۔بہترین انسان. بننے کے۔لیئے آپ کو اپنی غلطیوں کو دفن کرنا ھو گا تب ھی۔آپ ایک بڑے انسان بن۔پایئں گے قاسم صاحب نے آجکل کےمعاشرے میں۔پنپتی ھوئی برائیوں کا۔ذکر کرتے ھوئے اسکے سدھار کے۔طریقے بھی بتائے لوگوں کے ذہنوں کو جرائم کی طرف دھکیلنے میں۔میڈیا اہم کردار ادا کر۔رہا ھے انکے مطابق آجکل جرائم پرمشتمل پروگراموں کی ریٹنگ سب سے زیادہ۔ھے راقم الحروف سے بھی ایک نجی ٹی وی چینل نے۔جرائم کے پروگرام کی سیریز لکھوائی تھی
قآسم علی۔شاہ نے بتایا کہ آج کا ڈرامہ آپ کو تباہی کی طرف لیجا۔رہا ھے جن موضوعات پر ڈرامے بناے جا۔رہے ھیں ان سے۔معاشرہ بنتا نہیں بگڑتا ھے. ان کے مطابق آخکل معیاری کام نہیں ھو رہا جس پر میں نے انہیں بتایا کہ میں خود ایک ایسے ڈرامے کی مصنفہ ھوں جسے علامہ اقبال کی شاعری کو۔ڈرامہ ٹائز کر کے بنایا گیا تھا "کمند "نام سے بنائے گئے اس ڈرامے کو کسی چینل نے نہیں۔خریدا کیونکہ اسمیں۔وہ۔مصالحاجات شامل نہیں تھے۔جو چینل کے لیئے ضروری ھیں جبکہ ہم نے تو۔اسمیں۔یہ بتایا۔تھا کہ اقبال کیسے نوجوانوں سے۔عشق کرتے ھیں اور کس قسم۔کے نوجوان اس۔معاشرے اور امہ کی ضرورت ھیں جس۔شعر پر ہم نے یہ ڈرامہ بنایا تھا وہ یہ تھا
. . "محبت مجھے ان جوانوں سے ھیے
. ستارو پہ جو ڈالتے ھیں کمند"
تو معیاری کام کیسے ھو جب اسکی۔پزیرائی نہ ھو قاسم صاحب۔نے۔اسے۔وقت۔کا المیہ قرار دیا
ان کے بعد ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے۔انتہائی پر تاثیر خطاب کیا اور نوجوانوں کو ہر کام کے شروع کرنے سے۔پہلے دعاے موسوی کی تلقین کی اور کہا کہ لکھتے ھوئے ان نقاط پر ضرور عمل کیا کریں دعا سے آغاز کریں
١ . اے اللہ میرا سینہ کھول دے
٢. اللہ کی رحمت طلب کریں
٣. . خوبصورت الفاظ کا استعمال کریں
کیونکہ بات جو۔دل سے نکلتی ھے اثر رکھتی ھےاپنا اعلی کردار ادا کریں۔اسمیں گراوٹ نہ آنے۔دیں کیونکہ جب کوئی۔قوم گراوٹ کا۔شکار ھوتی ھے تو اسے تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا اور یہ نہ سوچیں۔کہ میرے بغیر کچھ نہیں چل سکتا. . . . . . . . اپنے لیئے دعا کیا۔کریں کہ " اے اللہ مجھے اپنی آنکھوں میں۔چھوٹا اور دوسروں کی۔آنکھوں میں بڑا بنا دے " یہ انتہائی اہم دعا ھء۔جو۔ڈاکٹر صاحب نے لوگوں کو سکھائی
بچوں کی کردار سازی پر بات کرتے ھوِے ڈاکٹر صاحب نے والدین کو۔انکی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور بتایا کہ بچاں کی کردار سازی میں کون کون سے ،institutions اہم کردار ادا۔کرتے ھیں
1. . . Family institution
2. . Educational institution
3. . . . Society
یہ تینوں مل کر ایک۔بچے کی شخصیت پر اثر انداز ھوتے ھیں مثبت بھی اور منفی بھی اسمیں۔والدین کا۔کردار سب۔سے۔اہم ھےانہوں نے۔والدین۔کو۔مشہورہ دیا کہ۔آپ
١. . . پہلے پانچ سے۔چھ۔سال تک بچے کے۔ساتھ کھیلو
٢. . . دوسرے پانچ۔سے۔چھ۔سال بچے کی بہترین اخلاقی تربیت لرو
٣. . اور پھر اس سے اگلے پانچ سے۔چھ۔سال۔میں اپنے بچوں کے دوست بن جاو
اس طرح بچے میں۔اعتماد بڑھے گا اور وہ زندگی کی مشکلات پر قابو پاتے ھوے آگے بڑھے گا ڈاکٹر صاحب۔کے مطابق میاں۔اور بیوی ایک دوسرے کی۔عزت کریں۔بچے یہ۔عمل۔گھر۔سے ھی۔سیکھ۔جاتے۔ھیں کیونکہ گلاس میں جیسا پانی ڈالو۔گے۔وہسا۔ھی۔انڈیلا۔جاے گا میاں بیوی کے۔آپس کے۔روئیے بچے کی۔کردار سازی پر۔اثر انداز ھوتے ھیں۔کیونکہ معاشرے گھروں۔سے۔تشکیل پاتے ھیں اور اپنے ملک۔مذہب کی پہچان۔بن کر۔دنیا۔لو۔اپنا۔تعارف دیتے ھیں
میڈیا۔کے۔کردار پر بات۔کرتےھوئے انہوں۔نے کہا۔کہ آجکل۔لا۔میڈیا خوف بیچ رہا ھے اور اس بات پر۔ڈاکٹر جاوید اقبال اور قاسم۔علی شاہ ہم خیال لگے ہم۔ان۔سے متفق ھیں۔کیونکہ صبح کے آغاز سے ہی۔ہمارے نیوز چینل خوفناک خبریں۔نشر۔کر رھے ھوتے ھیں میڈیا۔زیادہ تر معاشرے کا منفی پہلو۔اجاگر کر۔رہا ھے برائی کس معاشرے میں نہیں پائی جاتی لیکن ہر جگہ میڈیا کے ذریعے اسے اجاگر نہیں کیا جاتایہ صرف۔ہمارے معاشرے کا۔طرہ ھےگذشتہ دنوں۔ایک۔مغربی ملک۔میں کسی۔حملہ آور نے چار سے۔پانچ انسانوں کا۔قتل کر۔دیا لیکن انکے میڈیا کی فوٹیج میں۔صرف چند پولیس اہلکار اور وہ۔رکاوٹیں دکھائی گئیں جس سے۔عام۔آدمی کا داخلہ روکا گیا تھا یہی خبر۔اگر۔ہمارا میڈیا دکھاتا تو لاشوں کے ساتھ۔ساتھ روتے پکارتے عزیز و۔اقارب کو۔بھی۔فوکس کر کے خوف پھیلاتا یہی وہ۔خوف۔ھے جو۔میڈیا بیچ رہا ھے
ہمارے اگلے مہمان C42 کے گروپ ایڈیٹر نوید چوہدری صاحب تھے جنہوں نے ایک عام کوتاہی کی طعف اشارہ کرتے ھوے احساس دلایا کہ آجکل پڑھے لکھے نوجوان املا کی غلطیاں بہت کر رہے ھیں ہمارے خیال میں املا کے ساتھ ساتھ۔تلفظ کی غلطیاں بھی اب عام ھو چکی ھیں انگریزی کی آمیزش کے۔علاوہ اب۔ہندی کے مخصوص الفاظ بھی زباں زد عام ھونے لگے ھیں پہلے انتدا رب۔جلیل کے بابرکت نام سے ھوتی تھی اب۔تو ہر طرف شروعات کا بازار گرم ھے
ہمارے جیال میں موبائل فون سے کی جانے والی انگریزی کی چٹ چیٹ نے املا کو بہت نقصان پہنچایا ھے اگر یہی چٹ چیٹ اردو زبان میں۔کہ جاے تو آپ کاغذ قلم کا استعمال نہ بھی کریں تو کم از کم آپ کو لفظ کے حروف کا تو علم ھو گا اور اس طرح آپ ان۔غلطیوں سے محفوظ رہیں گے
معزز مہمانوں میؓ ڈاکٹر محمد سعید صاحب بھی شامل تھے جو بڑے پائے کے مصنف ھیں آپ مےعدد کتابیں تصنیف کر چکے ھیں۔آپ کی کتابوں میں کس کتاب نے دلوں کے پھپھولے پھوڑ ے وہ ھے "ایسا تھا میرا کراچی " ماضی میں کراچی روشنیوں کا شہر تھا جسے دشمن کی نظر نگل گئی اور خوبصورت اور حسین۔وجمیل کراچی ناصرف اندھیروں۔میں۔ڈوب گیا بلکہ کچرا کنڈی بھی بن گیا ڈاکٹر صاحب کی اا کتاب کے چار ایڈیشن آ چکے ھیں
ہمارے اگلے معتبر مہمان۔شاہد نذیر صاحب تھے جنہوں نے نے ہماری آگہی میں اضافہ کرتے ھوئے بتایا ک صحافت صحیفے سے نکلا ھے اور آسمان سے اترا کرتے ھیں اسلیئے صحافیوں کق اپنی۔ذمہ داریاں اللہ کی جابدہی کو۔مد نظر رکھ کر۔ادا۔کرنی چاپیں آپ نے نئے کا نگاروں کو بتایا کہآپ کو اسلوب جاننے والا۔ھونا چاہیئے اوع ہر علم۔پر۔آپ کی نظر ھونی چاہئے
بآت ہی ایسی ھے کہ اس سے اختلاف۔ممکن نہیں ہمارے خیال میں بھی
A jouranilist should know every thing about some thing and.should know something about every thing
لکھنےسے۔پہلے آپ کو ہر۔چیز کا کچھ نہ کچھ علم ہونا چاھئے اور کچھ چیزوں کا۔مکمل علم ھونا چاھیئے تو ہی آپ قلم۔اٹھایئں
ایڈووکِٹ سعدیہ ہما۔شیخ سرگودھا سے اپنی ننھی پری اطش کے ساتھ آیئں تھیں انہوں۔نے عروض پر۔نئے شاعروں کی تربیت کی اور۔سرگودھا سے درخشاں۔ستاروں۔کا۔بھی۔تعارف کرواتے ھوئے بتایا کہ شکیب جلالی وزیر آغا اور احمد۔ندیم قاسمی جیسے معتبر نام سرگودھا سے تعلق رکھتے ھیں
 
92 نیوز چینل کے معروف۔نیوز اینکر اسداللہ خان اپنی خوبصورت باتوں۔سے حاضرین محفل دل موہ لیئے اسد اللہ نے تلفظ کی اہمیت پر۔زور دیتے ھوئے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہآ آجکل۔میڈیا پر خراب تلفظ کو سدھارنے۔کی تربیت نہیں۔دی جاتی
اسکے بعد اپوا کے سرپرست اعلی زبیر انصاری صاحب نے گھریلو زندگی کی خوبصورتی کے راز بتاتے ھوے کہا کہ شوہر پر۔لازم ھے۔کہ۔وہ ہر اچھے کام۔پر اپنی بیوی کی۔حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے اس سے۔اسکا۔حوصلہ بڑھتا ھے اور آپ کے گھر کا۔ماحول خوشگوار رہتا ھے جو آپ کے بچوں کہ کردار سازی میں معاون ثابت ھوتا ھے آپ نے معاشرے کے ناسوروں کا ذکر کرتے ھوئے ایک۔حقیقت آشکار کی کہ کس طرح پاکستان سے نوجوان بچیاں متحدہ عرب امارات جاتی ھیں اور انہیں کن۔مقاصد کے لیئے استعمال کیا جاتا ھے . . . . . . اس بات کی گواہی تو۔ہم بھی دیں گے کہ ایسی بچیاں ہم نے خود یو اے ای میں۔دیکھی ہیں
جانے پہچانے صحافی اورتجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی نے بھی نیئے صحافیوں کو۔یہی مشہورہ دیا۔کہانہیں۔ہر چیز کا۔علم ھونا۔چاھئے ہر چیز پر گہری نظر ھونی چاہِیئے اخبارات اور کتب کا مطالعہ کرنے کی عادت۔اپنایئں اور اپنے نظریئے کو کو۔ملک کی بہتری کے لیئے استعمال کرتے ھوئے اسکی ترویج کرنی چاھئے
شامی صاحب سے ہماری ملاقات ساہیوال میں ھوئی تھی جہاں میں اور فاطمہ قمر جو کہ کہ قومی زبان تحریک کی روح رواں ھیں اردو کانفرنس میں شرکت کے لیئے خاص طور پر لاھور سے مدعو کیے گیئے تھے میں نے شامی صاحب۔کو اپوکی۔اس تقریب میں شرکت کی یاد دہانی کروائی جس پر وہ مجھ سے اپواکا تعارف اور مقاصد کے بارے میں۔معلومات۔لیتے رھے انے کی۔یقین دہانی بھی کروائی جس انکی آمدپر میں نے انکا خصوصی شکریہ ادا کرتے ھوئے اپنی کتاب "صبح نو" کا تحفہ انکی نذر کیا
صبح نو کا تحفہ مہمانان گرامی۔میں قاسم۔علی شاہ اور اسد اللہ خان کو بھی دیا اسکے علاوہ اپوا کے دیگر ممبران جن میں۔فاطمہ۔خان۔شیروانی ۔علینہ ارشد ۔مہوش احسن ۔ حافظ زاہد۔ ایم ایم علی ۔مسرت ناز ساجدہ قریشی اسلم۔سیال۔کو بھی۔دی
اپوا کی یہ تقریب کامیابیوں کا تسلسل سمیٹتے ھوئے اپنے اختتام کی۔طرف بڑھ رہی تھی اپوا کی خواتین ونگ کی۔صدر ناہید نیازی نے اختتامی کلمات کہتے ھوِے تمام مہمانان گرامی کا۔شکریہ ادا۔کیا اور ایک۔اعلانبھی کیا کہ اگر نئے لکھنے والے کوئی اچھا مسودہ لے کر۔آئیں تو اپوا انکی کتاب نغیر کسی معاوضے کے چھپوائے گی اسکے ساتھ ہی حاضرین کی تواضع ایک پر۔تکلف کھانے سے کی گئی
تنظیم کے صدر ایم ایم۔علی نے اپنی۔والدہ کی بیماری کے۔باوجود جس محنت شاقہ سے کام۔کیا۔وہ۔ہر قدم پر۔نظر آیا نائب۔صدر حافظ زاہد بھی بہت مستعدی اور فعال طرہقے سے علی کے ساتھ مہمانوں کے استقبال اور رخصت کے۔لیِے چوکس رہے اور پھولوں کے تحائف کے۔ساتھ مہمانوں کو رخصت کرتے رھے فاطمہ خان۔شیروانی کے بغیر تو اپوا۔کی کوئی بھی تحریر نامکمل ھے فاطمہ صبح۔ہمارے ساتھ ھے ہوٹل آ گئی تھی اور آتے ہی اپنی مہ داریوں۔کی انجام دہی میں مصروف ھو گیئ اکاونٹ کا۔حساب کتاب بھی۔علینہ کے ساتھ دیکھ۔رہی تھی اور ہال کے انتظامات کا۔بھی جائزہ لے رہی تھی خوبصورت گفتار اور خوبصورت کردار والی فاطمہ خان شیروانی کو اپوا۔کا روح رواں۔کہا جائے تو بےجا نہ ھو گا اپوا کے ستاروں کا ذکر۔ھو اور مہوش ۔فلک اور حفصہ کا ذکر نہ ھو ایسا تو ممکن نہیں۔ مہوش ہمیشہ کی طرح بیحد حسین اور دلکش نظر آنے کے ساتھ۔ساتھ۔اپنی خوبصورت سوچ کا بھی گاھے گاھے اظہار کرتی رھیفلک بہت ھی ڈیسنٹ لگ رھی تھی یہ پراسرار رائیٹر حقیقت میں بہت۔معصوم شخصیت کی حامل ھے حفصہ جو کہ کالم نگار ھے حسب روایت عبائیہ میں بہت معتبر لگ رھی تھی اور میڈلز اور شیلڈز بڑی مستعدی سے مہمانان گرامی تک پہنچا رہی تھییہ بھی اپوا کا اعزاز ھے کہ تمام مہمانوں میں میڈلز اور۔شیلڈز تقسیم کی گیئں فریال شیخ اپنی والدہ کی کتابیں مہمانوں کو۔پیش کرتی رہی اور فلک کے ساتھ فیس بک پر اپوا کہ۔تقریب براہ راست نشر کرتی رہی
اور یوں۔ایک۔کامیاب۔تقریب خوشگوار تاثر لیئے اختتام پذیر ھو گئی
 
. . . . . . . ریحانہ عثمانی. . . . . . .