’’بچھو‘‘ حسن نثار

پیارے’’چا چا‘‘ شہباز شریف نے بہت مایوس کیا۔ ان سے ہرگز توقع نہیں تھی کہ وہ تفتیشیوں کی تسلی کرنے کی بجائے انہیں ڈانٹنا ڈپٹنا اور دھمکیاں دینا شروع کردیں گے کہ ’’دیکھ لوں گا، نمٹ لوں گا، نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ شہباز شریف سے بہتر کون جانتا ہے کہ سرکاری ملازمین تو ان دیکھی زنجیروں میں جکڑے سرکار کے وہ پرزے ہوتے ہیں جنہیں ہر قیمت پر ہر قسم کے احکامات کی تعمیل کرنا ہوتی ہے، بصورت دیگر ان کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو بھلے وقتوں میں شہباز چاچا ان کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ حیرت ہے ان کو’’نیب‘‘ کے تفتیشی افسران کی مجبوریوں کا اندازہ نہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ انہیں یاد ہی نہیں کہ بڑی بڑی رقمیں کیسے ان کے اکائونٹس میں منتقل ہوتی رہیں۔ ہر سوال کا سٹینڈرڈ جواب تھا’’یاد نہیں‘‘ لیکن یہ کہنا نہ بھولے کہ سوالوں کے جواب تو یاد نہیں لیکن تم لوگوں کو یاد رکھوں گا جو الٹے سیدھے سوال کررہے ہو اور وقت آنے پر تم میںسےایک ایک کو دیکھ لوں گا لیکن شاید........شاید........شاید اب وہ وقت پھر کبھی نہ آئے جب چمڑے کے سکے چلتے اور سورج مغرب سے نکلتے تھے، ہر دن تھا عید کا دن ہر شب، شب برأت۔اس وقت سیاسی منظر نامہ پر مظلوموں کا ہجوم ہے اور میاں شہباز مظلوم ترین کیونکہ وہ باہر ہی نہیں اندر سے بھی بری طرح زیر عتاب اور دوہرا عذاب
 
 
 
بھگتنے پر مجبور ہیں۔ دو تین روز قبل بھتیجی کے پہلو میں بیٹھ کر پریس کانفرنس نبھاتے، بھگتاتے، کاٹتے شہباز شریف کو دیکھنا خاصا تکلیف دہ تجربہ تھا لیکن شہباز شریف کے ہی ایک عزیز، ہر دلعزیز شاعر اور میرے دوست شعیب بن عزیز کا مصرعہ ہے’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘دو ہفتے قبل میں نے’’میرے مطابق‘‘ میں کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’شہباز شریف اور ان کے برخوردار مریم نواز کے ساتھ ’’سائیڈ ککس‘‘ کے طور پر رہنا چاہیں تو ٹھیک دوسری کوئی صورت نہیں۔‘‘ تب مجھے اندازہ نہیں تھا کہ پندرہ دن کے اندر اندر ہی صورتحال کھل کر سامنے آجائے گی۔ اول تو کوئی کسر رہ نہیں گئی، اگر رہ گئی ہے تو آنے والے دنوں میں وہ بھی پوری ہوجائے گی۔میرا ذاتی خیال ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے کہ چاچا جی سے لے کر حکومت تک کسی کو بھی ادراک نہیں کہ وہ کس سے ڈیل کررہے ہیں۔ میں نے"Signs of the Zodiac"پر سینکڑوں نہیں تو بیسیوں کتابیں ضرور پڑھی ہیں اور بہت حد تک اس ’’علم‘‘ یا’’ تحقیق ‘‘ پر یقین بھی رکھتا ہوں۔ توہم پرستی تو میرے نزدیک سے نہیں گزری لیکن تحقیق سے انکار کرنا ممکن نہیں خصوصاً جب خود کئی تجربے کئے ہوں۔
 
برجوں کی دنیا کے اس پہلو پر تو مجھے شک ہی نہیں کہ عادات، خصوصیات، خامیوں، خوبیوں، کجیوں، خوبصورتیوں، منفی، مثبت رویوں وغیرہ کے حوالہ سے برجوں کا علم خاصا جاندار اور سنسی خیز ہے، سو اس حوالہ سے مطالعہ کرنا فائدہ مند ہو نہ ہو، نقصان دہ بالکل نہیں اور کچھ نہ سہی اک دلچسپ ایکسرسائز تو بہرحال ہے ہی سو ذرا غور فرمائیے۔24اکتوبر تا 22نومبر کے درمیان پیدا ہونے والوں کا برج مقرب کہلاتا ہے جسے انگریزی میں Scorpio کہتے ہیں اور نشان ہے اس کا بچھو جس کا زہر بہت کارآمد اور قیمتی ہونے کے علاوہ کچھ علاقوں میں بچھو بہت شوق سے کھایا بھی جاتا ہے اور اس کا سٹیٹس’’ڈیلیکیسی‘‘ کا سا ہے۔برجوں کی دنیا پر بےشمار لوگوں نے طبع آزمائی کی ہے لیکن بہت سوں کو پڑھنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ محترمہ Linda Goodmanکا ثانی کوئی نہیں کیونکہ ایک طرف علم، گہرائی وگیرائی تو دوسری طرف انگریزی اتنی خوبصورت ہوتی ہے کہ آدمی مسحور ہوجاتا ہے۔معذرت خواہ ہوں کہ میں لنڈا کو ترجمہ کرنے کا رسک نہیں لے سکتا کیونکہ یہ کام کوئی پروفیشنل مترجم ہی کرسکتا ہے۔ میں نے کوشش کی اور کوئی جھول رہ گیا تو میرے وارے میں نہیں۔"How to recognize scorpion"کے عنوان سے لکھتی ہیں۔
 
"An encyclopaedia descrivbes a scorpion as a nocturnal arachnid that attacks and paralyses its pray with a poison injected by the long, curved tail, used for both defence and destruction. Its sting is sometimes fatal."مزید پڑھیں ا ور سمجھیں"People often draw back visibly when someone says he or she was born in november, murmuring," Oh you are a scorpion; Either in frank fear, or in owe and respect. Sometimes there is also a giggle that obviously refers to the legendary scorpion passion."یوں تو عقل مندوں کے لئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور میں اوپر Linda
 
کے حوالہ سے ایک سے زیادہ اشارے دے چکا ہوں لیکن لنڈا کی طویل تحریر سے اقتباس کرتے ہوئے مجھے مسلسل یہ خیال تنگ کررہا ہے کہ میں اوکھا سوکھا ہو کر پورے مضمون کا ترجمہ پیش کردوں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ ہو سکے تو چاچا خوامخواہ میں تبدیل ہوتے ہوئے چاچا جی اور تبدیلی سرکار Linda Goodmanکے اس شاہکار پر سنجیدگی سے غور فرمائیں تو ان کے لئے زندگی خاصی آسان ہوجائے گی۔ چاہیں تو اسے ہلکی پھلکی تفریحی تحریر سمجھ کر پڑھیں اور اس پر غور کئے بغیر آگے نکل جائیں لیکن میں اسے مستقبل میں ری پروڈیوس کرنے کے لئے محفوظ کرلوں گا۔