جاننے کا غرور اور نہ جاننے کی عاجزی ! - ارشاد بھٹی

علم نور بھی اور علم حجاب بھی، اگر علم کا مقصد شہرت اور ناموری ہو تو یہ حجاب، اگر علم کی منشاء خدا کی رضا اور مخلوقِ خدا کی بھلائی تو یہ نور اور اگر علم اَنا کے خول سے نہ نکلے تو یہ حجاب اور اگر علم ادراک و آگہی کا ذریعہ ہو جائے تو یہ نور، لیکن اہم بات یہ کہ جاننے کا غرور اگر نہ جاننے کی عاجزی میں بدل جائے تو پھر ہر حجاب نور ہو جائے۔
کتاب اللہ میں 167مرتبہ علم پر بات ہوئی جبکہ 854بار لفظ علم استعمال ہوا، اگر ایک طرف علم کی اہمیت یوں سامنے آئی کہ ’’اللہ کی باتیں صرف اہلِ علم ہی جانیں، ہم نیکوکاروں کو علم وحکمت عطا کریں اور اللہ کو علم والے پسند‘‘ تو دوسری طرف علم کی فضیلت ایسے بیان ہوئی کہ ’’اللہ کے علم کے ساتھ قرآن اتارا گیا، اللہ کے ہاں درجہ بندیاں علم کے لحاظ سے اور کامل علم والوں کیلئے بڑا اجرڈ‘‘، حضورﷺ اکثر یہ دعاکیا کرتے کہ ’’اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما‘‘، آپؐ کا ہی فرمان کہ ’’جس نے علم کو امام بنا یا وہ دنیا کا امام بن گیا‘‘، حضرت علیؓ فرمائیں ’’کام کے لوگ تو صرف دو ہی ایک عالم اور دوسرا طالب علم‘‘، مولانا رومیؒ کہیں ’’علم کے بنا انسان یتیم اور عالم مرنے کے بعد بھی زندہ‘‘، شیخ سعدیؒ بتائیں ’’خدا کے ناراض ہو نے کی ایک نشانی یہ بھی کہ بندے پر علم کے دروازے بند ہوجائیں‘‘ اور خلیل
جبران کے مطابق ’’عقل علم کے بنا ادھوری اور علم عمل کے بغیر نامکمل‘‘۔
صاحبو! علم کا درجہ یہ کہ باری تعالیٰ خود بھی معلم اور ہر نبی، پیغمبر اور رسول بھی معلم، علم کا مقام یہ کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق پر جب ملائکہ معترض ہوئے، جب 14بنیادی حروف جنہیں قرآن مجید میں حروفِ مقطعات کہا جائے، حضرت آدمؑ اور ملائکہ کو دے کر سوالات ہوئے جب ملائکہ صرف یہی کہہ پائے کہ ’’ہمیں تو اتنا ہی علم جتنا تو نے سکھا رکھا‘‘ اور جب حضرت آدمؑ نے ہر سوال کا جواب دیدیا تو پھر حکمِ الہی سے ملائکہ نے جو سجدہ حضرت آدمؑ کو کیا ایک طرح سے یہ سجدہ تعظیمِ علمیت کو بھی ہوا۔ ایک بار واصف علی واصف سے کسی نے بڑا دلچسپ سوال پوچھا ’’علم کیا ہے اور کیا ہماری روایتی تعلیم بھی علم ہی کہلائے‘‘ جواب آیا ’’نا نا علم اور تعلیم کو Mixنہ کرنا، کیونکہ ضرورت کا علم اور شے اور علم کی ضرورت اور شے، علم اور تعلیم دو علیحدہ علیحدہ جہان، تعلیم کا تعلق ڈگریوں سے اور علم ڈگریوں اور یونیورسٹیوں سے بے نیاز اور تعلیم کا مقصد نوکری، حصولِ رزق اور سماجی مرتبہ جبکہ علم نوکری، روٹی اور عہدوں سے بالآتر‘‘، استادوں کے استاد واصف علی واصف بات کرتے کرتے رُکے اور پھر چند لمحوں کے توقف کے بعد دوبارہ بولے ’’علم تو اُس کی خاص عطا کہ جو سب کو سب کچھ عطا کرے، علم ہر طاقت سے بڑی طاقت، علم صاحبِ ظر ف بنا دے، علم دنیا کے اندھیروں میں مستقل روشنی، علم آخرت کے راستوں کا نشان، علم پہچان، علم عرفان، علم نامعلوم سے نجات کا نام، علم معلوم کی نفی اور علم تو وہ جہان کہ جہاں اپنے معلوم پہ نازاں انسان ہمہ وقت نامعلوم کی زدمیں‘‘۔
دوستو! آج بھی زندہ و تابندہ زیادہ تر بڑے ایسے کہ جن کے پاس تعلیم نہیں تھی مگر علم تھا، جیسے ارسطو کے پاس علم تھا تعلیم نہیں، وہ مرزا غالب اور وارث شاہ جو آج ایم اے کے نصاب کا لازمی حصہ، وہ خود بی اے بھی نہ تھے اور تو اور شیکسپیئر جو جب دوسری جماعت میں تھا تو اسکول سے بھاگ گیا مگر آگے چل کر اسی نے 36یادگار ڈرامے، لازوال افسانے اور بے مثال نظمیں لکھ ڈالیں، لیکن کبھی کسی نے غور کیا کہ یہ سب ابھی تک کیوں زندہ اور ان کے اِردگرد گزر چکے لاکھوں، کروڑوں تعلیم والوں کا کیوں کسی کو کچھ پتا نہیں، تو یہ اس لئے کہ علم نے آج تک کسی کو مرنے نہیں دیا، علم زندہ رہے اور زندہ رکھے، ابھی کل ہی کی بات کہ زہر کا پیالہ پکڑے سقراط سے جب کہا گیا کہ ’’مرتے ہوئے اتنا سکون اور اطمینان کیسے‘‘ تو سقراط ہنس کر بولا ’’میں زہر کو انجوائے کر رہا، کیونکہ مجھے علم کہ میں مر کر بھی نہیں مروں گا اور مجھے مارنے والے زندہ ہو کر بھی مُردوں جیسے‘‘۔
قارئین کرام! علم کی ایک بڑی نشانی یہ کہ علم نافع ہو، مطلب علم نفع پہنچائے دونوں جہانوں میں اور پھر یاد رہے کہ علمِ نافع ہی بتائے کہ اگر نیت اور ارادے میں عاقبت اور آخرت ہو تو ہر کام نیکی اور اگر نیت اور ارادے میں دنیا ہو تو ہر عبادت فانی،یہ علمِ نافع ہی جو یہ سمجھائے کہ جب سب کچھ یہیں چھوڑ جانا تو پھر جمع کیا کرنا، یہ علمِ نافع ہی جو ہر مصیبت اور ہر آزمائش میں قدم اکھڑنے نہ دے، جو سولی اور نیزوں پر بھی میٹھی نیند سُلا دے، جو خالق، رازق اور مالک کی پہچان کرائے، جو تکبر اور غفلت سے بچائے، جو ثابت کرے کہ چاند اور مریخ پر پہنچنے سے بڑا کام مشیت کو پہچاننا، جو دعا کا علم، خیال کا علم، روح کا علم، دین کا علم، خود شناسی کا علم اور قبر کا علم اور یہ علمِ نافع ہی کہ جس کے لئے اہلِ نظر نے رو رو کر دعائیں کیں کہ ’’اے اللہ ہم پناہ مانگتے ہیں اس علم سے جو نفع نہ دے، اے رب ہمیں علمِ نافع عطا کر‘‘، لیکن صاحبو! چونکہ علمِ نافع کی منزلیں بڑی ہی نازک اور یہاں بھول چوک ایسے ہی کہ جیسے ’’وہ بڑھیا کہ جس نے عمر بھر سوت کات کر آخر میں اسے الجھا دیا‘‘، اسی لئے اس سفر میں جہاں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا وہاں یاد یہ بھی رکھنا کہ علم نور بھی اور علم حجاب بھی، اگر علم کا مقصد شہرت اور ناموری تو یہ حجاب، اگر علم کی منشاء خدا کی رضا اور مخلوقِ خدا کی بھلائی تو یہ نور اور اگر علم اَنا کے خول سے نہ نکلے تو یہ حجاب اور اگر علم ادراک و آگہی کا ذریعہ ہو جائے تو یہ نور، لیکن اہم بات یہ کہ جاننے کا غرور اگر نہ جاننے کی عاجزی میں بدل جائے تو پھر ہر حجاب نور ہوجائے۔